اسلام ٹائمز: کراچی میں آئے دن کھلے مین ہول کسی کو نگل لیتے ہیں، کوئی رکشے سمیت گر جاتا ہے، کوئی بچہ کھیلتے ہوئے جان کھو دیتا ہے، کوئی راہگیر اندھیرے میں چھپے کھڈے میں چلا جاتا ہے۔ یہ تحریر ابراہیم کے لیے نہیں اس شہر کے بیدار ہونے کے لیے ہے۔ اداروں کو بھی جاگنا ہوگا، اسٹور مالکان کو بھی اور ہم سب شہریوں کو بھی کیونکہ خاموشی بھی ایک گناہ ہے۔ تحریر: گلفام شیخ
ایک ایسا دُکھ جسے لفظ بھی سہہ نہیں پاتے۔ کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک، نیپا چورنگی جہاں روزانہ ہزاروں لوگ گزرتے ہیں، جہاں روشنی بھی ہے
ہجوم بھی ہے اور زندگی کی رفتار بھی تیز ہے، مگر اس ہجوم کے بیچ تین روز قبل ایک ایسا لمحہ آیا جس نے سب کچھ خاموش کر دیا۔ ننھا ابراہیم، ایک معصوم جان ایک ایسی کمزوری کا شکار ہو گیا جو برسوں سے ہمارے شہر کا پیچھا کر رہی ہے۔ گٹر کا کھلا منہ اداروں کی غفلت، اور بے حسی کا زہریلا امتزاج۔ وہ گٹر، جس پر ڈھکن ہونا چاہیے تھا۔ وہ سڑک، جس کی نگرانی ہونی چاہیئے تھی۔ وہ جگہ، جہاں شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے تھا۔ وہاں ایک معصوم بچہ پوری دنیا سے چلا گیا
اداروں کی غفلت، ایک سوال جو چیختا ہے
یہ حادثہ حادثہ نہیں لگتا، یہ کوتاہی کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے۔ شہر کے پانی و نکاسی کے ادارے ہوں، لوکل باڈی انتظامیہ ہو یا وہ محکمے جو روزانہ سڑکوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب کے سب یہاں سوال کے کٹہرے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں، کیوں گٹر کا ڈھکن غائب تھا؟ کون ذمہ دار تھا کہ روزانہ اسے چیک کرے؟ کس نے رپورٹ بنائی؟ کس نے اسے ٹھیک کرنے کا حکم دیا؟ اور اگر دیا تھا تو عمل کیوں نہ ہوا؟
اسٹور کے باہر کی غفلت، خاموشی جو جرم بن گئی
جس اسٹور کے سامنے یہ گٹر کھلا ہوا تھا، وہاں بھی انسانی غفلت نے اس المیے کو جنم دیا۔ دکان دار روزانہ وہاں بیٹھتے تھے، گاہک آتے جاتے تھے۔ سب نے دیکھا ہوگا کہ گٹر کھلا ہے، خطرناک ہے، مگر کسی نے انتظامیہ کو اطلاع نہ دی، کسی نے نشاندہی نہ کی، کسی نے عارضی کور تک نہ رکھا۔ یہ خاموشی کبھی کبھی چیخوں میں بدل جاتی ہے اور ابراہیم کی چیخ ساری دنیا سن نہ سکی، مگر زمین نے سن لی۔
یہ صرف ابراہیم کا کیس نہیں
یہ پورے نظام کا آئینہ ہے
کراچی میں آئے دن کھلے مین ہول کسی کو نگل لیتے ہیں، کوئی رکشے سمیت گر جاتا ہے، کوئی بچہ کھیلتے ہوئے جان کھو دیتا ہے، کوئی راہگیر اندھیرے میں چھپے کھڈے میں چلا جاتا ہے۔ یہ تحریر ابراہیم کے لیے نہیں اس شہر کے بیدار ہونے کے لیے ہے۔ اداروں کو بھی جاگنا ہوگا، اسٹور مالکان کو بھی اور ہم سب شہریوں کو بھی کیونکہ خاموشی بھی ایک گناہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جاتا ہے کے لیے کو بھی
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔