جنگ شروع کی تو مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا، پیوٹن کی یورپ کو سخت وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی طاقتوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے روس کے ساتھ جنگ شروع کی تو ماسکو لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس صورت میں یورپی ملکوں کی شکست اس قدر مکمل ہو گی کہ وہاں امن مذاکرات کے لیے کوئی باقی بھی نہیں رہے گا۔
گزشتہ 4 سال سے جاری یوکرین جنگ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے ہولناک تنازع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
جس میں روس اب تک اپنے چھوٹے ہمسائے پر مکمل قبضہ کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ یوکرین کو یورپی طاقتوں اور امریکا کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
یوکرین اور یورپی ممالک بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر پیوٹن یہ جنگ جیت گئے تو وہ نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ کر سکتے ہیں۔
تاہم صدر پیوٹن ایسے بیانات کو مسلسل ’بے بنیاد‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار
روسی میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس سے متعلق سوال پر کہ ہنگری کے وزیرِ خارجہ پیٹر سیجیارٹو نے کہا ہے کہ یورپ روس کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے، پیوٹن نے جواب دیا کہ روس یورپ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔
’اگر یورپ اچانک ہم سے جنگ شروع کرنا چاہے اور کر دے، تو یہ یورپ کے لیے اتنی تیزی سے ختم ہو جائے گی کہ مذاکرات کے لیے بھی کوئی نہ بچے۔‘
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرین میں جاری کارروائی کسی ’مکمل جنگ‘ کے مترادف نہیں بلکہ ایک ’سرجیکل‘ اقدام ہے، جو یورپی طاقتوں کے ساتھ براہِ راست تصادم کی صورت میں نہیں دہرایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے ساتھ یوکرین پر ’سمجھوتے‘ طے پا گئے، روسی صدر پیوٹن کا انکشاف
پیوٹن کا کہنا تھا کہ اگر یورپ ہم سے لڑنا چاہتا ہے اور آغاز کرتا ہے، تو ہم ابھی تیار ہیں۔
کریملن کے سربراہ نے یورپی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں اورایسے منصوبے پیش کرتے ہیں جنہیں ماسکو کے لیے ’قطعی ناقابلِ قبول‘ بنایا جاتا ہے تاکہ بعد میں روس پر امن نہ چاہنے کا الزام لگایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:
صدر پیوٹن نے کہا کہ یورپی ممالک نے روس سے رابطے منقطع کر کے خود کو امن مذاکرات سے باہر کر لیا ہے، اور وہ جنگ کے فریق بن چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ اگر بلیک سی میں روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ کے ٹینکروں پر ڈرون حملے جاری رہے تو روس یوکرین کی بحیرہ اسود تک رسائی ختم کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیوٹن روس مذاکرات یورپ یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیوٹن مذاکرات یورپ یوکرین مذاکرات کے لیے کے ساتھ کہ اگر
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔