جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے ڈیڈ لاک سے نہیں، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈ لاک سے نہیں۔ اگر پی ٹی آئی بات چیت کے لیے تیار ہے، حکومت بھی اپوزیشن سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں: ضمنی انتخابات: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر رانا ثنا اللہ کو 50 ہزار روپے جرمانہ
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم 2 مرتبہ ایوان کے فلور پر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، حتیٰ کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کو پیشکش کی کہ آپ اسپیکر چیمبر میں مذاکرات کر لیں، میں وہیں آ جاؤں گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کو میثاقِ استحکام و جمہوریت کے لیے بات چیت کی کھلی پیشکش کر چکے ہیں۔
انہوں نے جیل ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق ہی جیل میں ملاقاتیں ہوتی ہیں، اور کسی قیدی کو جیل میں بیٹھ کر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: بھارتی مظالم عالمی ضمیر کے لیے چیلنج ہیں، رانا ثنا اللہ کا یومِ سیاہ کشمیر پر پیغام
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کو ملک میں گڑبڑ پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنی بہن سے جیل ملاقات کے دوران امن و امان میں خلل ڈالنے کی ہدایات دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بات چیت بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی رانا ثنا اللہ ملاقات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بات چیت بانی پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی رانا ثنا اللہ ملاقات رانا ثنا اللہ بات چیت کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔