عمران خان جن سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے، رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے پارلیمنٹ کے فورم پر ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر دی۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کا آپشن اب بھی موجود ہے آئیں بیٹھ کر بات کریں، جن سے بانی پی ٹی آئی بات کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے۔
سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، میں کہتی ہوں رانا ثناء کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، ملکی و بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر جائیں اور بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان کو دی گئی سہولیات سے متعلق ہمیں آگاہ کرے۔
اس کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں، وزیراعظم نے دو بار فلور آف دی ہاؤس بات چیت کے لیے بیٹھنے کا کہا، یہاں تک کہا کہ اسپیکر کے چیمبر میں بیٹھ جائیں میں وہاں آجاتا ہوں۔
انہوں نے کہا آن ریکارڈ ہے کہ پی ٹی آئی ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں، جن سے بات کرنے کی خواہشمند ہے وہ راضی نہیں، قیدی سے ملاقات سے متعلق کچھ امور پہلے سے طے ہونے چاہئیں، بانی سے ملاقات کے بعد جو گفتگو کی گئی وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ کسی قیدی کو ریاست کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کرنا چاہتے رانا ثناء پی ٹی آئی سے بات کہا کہ
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔