2026 فیفا ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج کا ڈراز جمعے کے روز منعقد ہوا، جس میں افتتاحی میچ 11 جون کو میکسیکو سٹی کے تاریخی ایزٹیکا اسٹیڈیم میں مشترکہ میزبان میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان طے پایا ہے۔

جنوبی افریقہ 2010 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کر رہا ہے، جب اس نے افتتاحی میچ میں میکسیکو کے ساتھ مقابلہ برابر کیا تھا۔ افتتاحی روز دوسرا میچ جنوبی کوریا اور یورپی پلے آف ونر کے درمیان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: فیفا کا رونالڈو کو بڑا ریلیف، فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت برقرار

اگلے روز ورلڈ کپ کے دوسرے میزبان ممالک امریکا اور کینیڈا بھی میدان میں اتریں گے جہاں امریکا پیراگوئے کے خلاف لاس اینجلس میں جبکہ کینیڈا پلے آف ونر (ممکنہ طور پر اٹلی) کے خلاف ٹورنٹو میں اپنا پہلا میچ کھیلے گا۔

اہم گروپس اور بڑی ٹیمیں

دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو الجزائر، آسٹریا اور اردن کے ساتھ گروپ  ‘جے’میں رکھا گیا ہے۔

5 مرتبہ کی عالمی چیمپئن برازیل کا مقابلہ گروپ  ‘سی’ میں مراکش، ہیٹی اور اسکاٹ لینڈ سے ہوگا۔ اسکاٹ لینڈ 1998 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کھیل رہا ہے۔

فرانس کا پہلا میچ سینیگال کے خلاف ہوگا، اس سے قبل 2002 میں ایسے ہی مقابلے میں سینیگال نے موجودہ چیمپئن فرانس کو اپ سیٹ شکست دی تھی۔

???????????? ???????????????? ???????????????????? ???????????? ????????????????

It's done.

Finally.

▪️ Are any top seeds in trouble?
▪️ Is there a Group of Death?
▪️ Which minnow is best placed to spring a surprise?
▪️ Which group are you most looking forward to?

All the reaction: https://t.co/jjLw1sLq8m pic.twitter.com/QctpbjF2Sy

— The Athletic | Football (@TheAthleticFC) December 5, 2025

انگلینڈ گروپ  ‘ایل’ میں ہے اور اپنا پہلا میچ کروشیا کے خلاف کھیلے گا، کروشیا کی ٹیم نے 2018 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دی تھی۔ انگلینڈ کو گروپ میں گھانا اور پاناما کا بھی سامنا ہوگا۔

نیا سیڈنگ سسٹم، بڑی ٹیمیں سیمی فائنل تک نہیں ٹکرائیں گی

فیفا نے پہلی بار ایسا سیڈنگ سسٹم متعارف کرایا ہے جس کے تحت دنیا کی ٹاپ 4 ٹیمیں، اسپین، ارجنٹینا، فرانس اور انگلینڈ اگر اپنے گروپس جیتتی ہیں تو سیمی فائنل سے پہلے ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں ہوں گی۔

بڑا ورلڈ کپ

ٹورنامنٹ میں پہلی بار 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں سے 6 کا فیصلہ ابھی باقی پلے آف کے ذریعے ہوگا۔ تمام ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ورلڈ کپ 16 میزبان شہروں میں کھیلا جائے گا، جبکہ فائنل 19 جولائی کو نیو جرسی میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن ایوارڈ سے نواز دیا

میچوں کے مقامات اور ٹائمنگز کا باضابطہ اعلان ہفتہ کو عالمی نشریاتی تقریب میں کیا جائے گا، تاہم مارچ میں پلے آف مکمل ہونے کے بعد اس میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔

2026 ورلڈ کپ گروپ اسٹیج ڈراز

گروپ A: میکسیکو، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، یورپی پلے آف D
گروپ B: کینیڈا، یورپی پلے آف A، قطر، سوئٹزرلینڈ
گروپ C: برازیل، مراکش، ہیٹی، اسکاٹ لینڈ
گروپ D: امریکا، پیراگوئے، آسٹریلیا، یورپی پلے آف C
گروپ E: جرمنی، کیوراساؤ، آئیوری کوسٹ، ایکواڈور
گروپ F: نیدرلینڈز، جاپان، یورپی پلے آف B، تیونس
گروپ G: بیلجیم، مصر، ایران، نیوزی لینڈ
گروپ H: اسپین، کیپ وردے، سعودی عرب، یوروگوئے
گروپ I: فرانس، سینیگال، فیفا پلے آف 2، ناروے
گروپ J: ارجنٹینا، الجزائر، آسٹریا، اردن
گروپ K: پرتگال، فیفا پلے آف 1، ازبکستان، کولمبیا
گروپ L: انگلینڈ، کروشیا، گھانا، پاناما

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فٹ بال فیفا ورلڈکپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فٹ بال فیفا ورلڈکپ لینڈ گروپ پہلی بار ورلڈ کپ کے خلاف

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے