پی سی بی کا لندن میں پی ایس ایل روڈ شو کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 7 دسمبر کو لندن میں پی ایس ایل کا روڈ شو کرانے کا اعلان کردیا۔اس روڈ شو میں عالمی سرمایہ کار، کمرشل پارٹنرز اور شائقین کی شرکت متوقع ہے، ایچ بی ایل پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کو بیچنے کی تیاریاں تیز ہوگئی ہیں اور ان نئی ٹیموں میں برطانوی سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی ہے۔لندن روڈ شو کا مقصد لیگ کا وژن، کمرشل ماڈل اور مستقبل کی حکمتِ عملی کی ترویج ہے، ایونٹ میں پاکستان سپر لیگ کی چیمپئن لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی اور فاسٹ بولر حارث رؤف کی شرکت کا بھی امکان ہے۔اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے کہا ہے کہ لارڈز میں روڈ شو پاکستان کرکٹ کی عالمی شناخت کا ثبوت ہے، لندن کا روڈ شو ایچ بی ایل پی ایس ایل کی بین الاقوامی اپیل کو مزید فروغ دے گا۔دوسری جانب سی ای او ایچ بی ایل پی ایس ایل سلمان نصیر نے کہا ہے کہ پاکستانی لیگ عالمی فالوؤنگ اور مضبوط کمرشل ویلیو رکھتی ہے، دو نئی ٹیموں کے اضافے سے سرمایہ کاروں کے لیے بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔30 سپر فینز کو خصوصی ایونٹ میں شرکت کا موقع دیا جائے گا اور ٹکٹ حاصل کرنے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، ایچ بی ایل پی ایس ایل دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایچ بی ایل پی ایس ایل روڈ شو
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی