Express News:
2026-07-24@01:42:04 GMT

حادثات و گٹروں کے سانحات پر سیاست

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

کراچی میں عام حادثات تو معمول ہیں ہی مگر اب مسلسل ٹرالروں و ٹینکروں کی زد میں آ کر اور شہر کے کھلے گٹروں میں گر کر ہلاکتوں پر سیاست تیزی سے پروان چڑھائی جا رہی ہے جس میں پیپلز پارٹی کے میئر کراچی، کراچی کے امیر جماعت اسلامی اور ان کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں کے علاوہ ایم کیو ایم کے رہنما پیش پیش ہیں، جن کے پاس کوئی بلدیاتی عہدہ تو نہیں مگر قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں کراچی سے منتخب ارکان کی بڑی بلکہ سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔

چوتھے نمبر پر چار ٹاؤنوں اور یوسیز میں پی ٹی آئی کے بلدیاتی عہدیدار بھی موجود ہیں جو اپنے بلدیاتی کاموں سے کام رکھے ہوئے ہیں جن کی شہری مسائل پر زیادہ تر خاموشی ہی رہتی ہے اور اسمبلیوں سے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں کی سیاست زیادہ تر اپنے بانی کی رہائی کے لیے ہی نمایاں ہے یا وہ سندھ حکومت، پیپلز پارٹی پر ہی تنقید میں مصروف رہتے ہیں۔

جماعت اسلامی کو توقع تھی کہ وہ کراچی میں تحریک انصاف سے مل کر اپنا میئر لے آئیں گے اور یہ ممکن بھی تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت خفیہ ہاتھ دکھا کر پی ٹی آئی کے یوسیز چیئرمینوں سے معاملہ طے نہ کر لیتی تو جماعت اسلامی کا میئر اور پی ٹی آئی کا ڈپٹی میئر منتخب ہو سکتا تھا مگر سندھ حکومت کراچی میں اپنا میئر اکثریتی بنیاد پر منتخب کرانے میں کامیاب ہو گئی تھی اور جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کا منہ دیکھتی رہ گئی تھی جس کے بعد سے وہ میئر کو قبضہ میئر قرار دیتے آ رہے ہیں اور اب تک ان کی تان قابض میئر پر ہی ٹوٹتی ہے اور وہ ہر مسئلے پر میئر کراچی سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔

حال ہی میں تین سالہ معصوم بچے کی گلشن اقبال ٹاؤن میں کھلے گٹر میں گرنے سے ہلاکت کا ذمے دار میئر کراچی کو قرار دے کر مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا جس پر میئر کا کہنا تھا کہ گلشن ٹاؤن کا چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے میں بولوں گا تو جماعت اسلامی برا منائے گی۔

جماعت اسلامی کراچی میں گٹروں میں گر کر ہلاکتیں ہونے کا ذمے دار میئر کراچی کو اور ایم کیو ایم ٹرالروں اور ٹینکروں تلے دب کر ہلاک ہونے والوں کی ذمے داری پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر ڈالتی آ رہی ہے کہ جو ٹرالرز و ٹینکرز مافیاز کی سرپرست بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کی زد میں آ کر افراد کی ہلاکتوں کو روکا نہیں جا رہا اور ایسے حادثات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے جواب میں صوبائی وزرا خاموش نہیں رہتے اور ایم کیو ایم کے ماضی کو بنیاد بنا کر تنقید شروع کر دیتے ہیں جس کا جواب ایم کیو ایم کے رہنما فوری دیتے ہیں اور جماعت اسلامی بھی درمیان میں کود پڑتی ہے اور سندھ حکومت اور ایم کیو ایم کو کراچی کے مسائل اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ روکنے میں ناکام رہنے والی سندھ حکومت کو قرار دے دیتی ہے۔

ملک کا سب سے بڑا شہر اور وفاقی و صوبائی حکومت کو سب سے زیادہ آمدنی فراہم کرنے والا کراچی بلاشبہ بے شمار اہم مسائل کا شکار ہے جس کے مسائل کے حل میں 17 سال سے برسر اقتدار پیپلز پارٹی کی سندھ کی حکومت مسلسل ناکام ہے جب کہ پہلی بار کراچی کا میئر 13ٹاؤن چیئرمین اور یوسی چیئرمینوں کی بڑی تعداد پیپلز پارٹی کی ہے جس کی پی پی قیادت سالوں سے خواہش مند تھی جو پوری بھی ہو گئی مگر سندھ حکومت نے عملی طور پر کراچی کے لیے وہ کچھ نہیں کیا جس کی شہریوں کو توقع تھی۔

اگر جماعت اسلامی کا میئر آ جاتا تو سندھ حکومت کے پاس کراچی کو نظرانداز کرنے کا سیاسی جواز ہوتا کہ کراچی کی نمایندگی پی پی کے پاس نہیں مگر اب میئر کراچی 13 ٹاؤنز کی سربراہی رکھنے والی پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کو کراچی دشمن پالیسی تبدیل کرنی چاہیے تھی جو عملی طور پر تبدیل نہیں ہوئی کیونکہ کراچی میں ان کے ارکان اسمبلی پہلے سے زیادہ ہیں مگر اکثریتی نمایندگی ایم کیو ایم کی ہے اور اندرون سندھ میں واضح اکثریت کے باعث سندھ میں چوتھی بار حکومت پیپلز پارٹی کی ہے۔مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی وفاقی حکومتوں کا سلوک کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں کا رہا۔ تینوں ہی پارٹیوں نے کراچی کے لیے زبانی طور پر صرف دعوے کیے، عملی طور پر کچھ نہیں کیا جس کی سزا کراچی کے لوگ بھگت رہے ہیں اور صرف جنرل پرویز مشرف واحد صدر مملکت تھے جنھوں نے کراچی کو اہمیت اور بڑی مقدار میں فنڈز دیے اور کراچی سے وفا نبھائی جو ان کا آبائی شہر تھا۔

یوں تو بے نظیر بھٹو اور ان کے صاحبزادے بلاول زرداری بھی کراچی میں پیدا ہوئے تھے مگر دونوں نے کراچی کو اندرون سندھ جیسی ترجیح نہیں دی اور کراچی میں اپنی پیدائش کا حق ادا نہیں کیا۔ شریف فیملی نے اپنے آبائی شہر لاہور، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے اپنے آبائی شہروں ملتان اور گوجر خان کو ترقی دلائی اگر بے نظیر اور ان کے صاحبزادے نے کراچی پر توجہ دی ہوتی تو آج ملک کا سب سے بڑا شہر تباہ حالی کا شکار نہ ہوتا۔

کراچی کا المیہ یہ ہے کہ یہ بدقسمت شہر میئر کراچی کے مطابق 38 مختلف اداروں کے ماتحت کام کر رہا ہے جن میں ایک بڑا ادارہ بلدیہ عظمیٰ اور کنٹونمنٹس ہیں اور یہ شہر کسی ایک چین آف کمان میں نہیں ہے اور نہ کراچی کا میئر ان اختیارات کا حامل ہے جو عالمی طور پر بڑے شہروں کے میئرز ہیں۔

حال ہی میں گلشن اقبال میں گٹر میں گرنے سے بچے کی ہلاکت نے صوبائی حکومت کو بھی نیند سے بیدار کر دیا ہے جو اس سے قبل ایسی ہلاکتوں کو معمولی مسئلہ سمجھتی تھی اور وزیر بھی لب سی لیتے تھے۔ پہلی بار میئر کراچی نے سانحہ نیپا چورنگی کی ذمے داری قبول کی اور مرحوم بچے کے گھر جا کر اپنی ناکامی کا اعتراف کیا اور ورثا سے معافی مانگی جو ایک اچھا اقدام ہے مگر آئے دن کراچی اور سندھ حکومت کی غیر ذمے داری اور غفلت پر وزیر اعلیٰ سندھ تو کیا کسی ایک وزیر نے معافی نہیں مانگی کیونکہ کراچی ان کا آبائی شہر نہیں اور جس بڑے کا یہ آبائی شہر ہے اب ان کو بھی دیکھنا ہوگا کہ اسٹریٹ کرائم، گٹروں اور ٹرالر اور ٹینکرز مافیا سے ہلاکتیں کیوں ہو رہی ہیں اور ذمے دار کون ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی جماعت اسلامی ایم کیو ایم سندھ حکومت میئر کراچی کراچی میں پی ٹی آئی کراچی کے نے کراچی اور سندھ حکومت کو کراچی کو کا میئر ہیں اور اور ان ہے اور ایم کی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن