بگ بیش لیگ پر پاکستانی چھا گئے! شاداب خان کا اعتراف، قومی اسٹارز سے لیگ کو نئی پہچان
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
قومی ٹیم کے سپن بولنگ آل راؤنڈر شاداب خان نے کہا ہے کہ خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان کے کرکٹرز کی وجہ سے آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کو شہرت مل رہی ہے۔شاداب خان نے سڈنی سے ورچوئل میڈیا ٹاک کے دوران کہا ہے کہ بگ بیش لیگ کے لیے اچھی تیاری ہے، گزشتہ سال کے رنرز اپ ہیں، کوشش ہوگی گزشتہ برس جو کمی رہ گئی تھی اس کو پورا کریں۔انہوں نے کہا ہے کہ خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان کے بڑے نام اس مرتبہ بی بی ایل کھیل رہے ہیں، پاکستان کے بڑے ناموں کی وجہ سے لیگ کو بھی شہرت مل رہی ہے، پہلے بھی پاکستان کے کرکٹرز آسٹریلیا آکر کھیلتے رہے ہیں لیکن ایک ساتھ اتنی تعداد پہلے نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تو ہم ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے رہے ہیں، بیرون ملک پہلی مرتبہ کھیل رہے ہیں، ہم سب ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے کے منتظر ہیں، دوستوں کے خلاف کھیلنے کا الگ احساس ہے۔شاداب خان نے کہا ہے کہ بی بی ایل میرے لیے بڑی اہم ہے، 5 ماہ کے بعد میں ایکشن میں ہوں گا، بی بی ایل میرے لیے اچھا موقع ہے، مجھے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے، انجری ہونا کھیل کا حصہ ہے، ایسا نہیں ہے کہ مجھے ہی انجری ہوتی ہے۔آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ فینز بھی پُرجوش ہیں، وہ بی بی ایل شروع ہونے کے منتظر ہیں، 2022 میں ہم نے یہاں ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلا، بہت سپورٹ ملی تھی، بی بی ایل میں بھی پاکستان کے بڑے نام ایکشن میں ہوں گے۔شاداب خان کا ماننا ہے کہ پیٹ کمنز ایک بڑا نام ہیں، ان سے سیکھنے کا موقع ملے گا، ڈیوڈ وارنر بھی ٹیم میں ہیں، بڑے ناموں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ بابر اعظم کی وکٹ لینے سے ہی مجھے سپر فٹ مان نہیں لینا چاہیے، ہم ایک دوسرے کو قریب سے جانتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ میچ والے دن کیا ہوتا ہے، کوشش یہی ہو گی کہ فرنچائز کی توقعات پر پورا اتروں۔واضح رہے کہ شاداب خان بگ بیش لیگ میں سڈنی تھنڈر کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی ، حسن علی اور حارث رؤف بھی مختلف فرنچائزز سے ایکشن میں ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔