سینیٹ کو ہنگامہ آرائی کا میدان نہیں بننے دیں گے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے ایوان میں نظم و ضبط یقینی بنانے کا اعلان کردیا۔ ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور بے قابو رویے کے خلاف سخت کارروائی کا پیغام دے دیا
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ سینیٹ کو ہنگامہ آرائی کا میدان نہیں بننے دیں گے اور ایوان کا تقدس ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ رولنگ پر مکمل عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں پارلیمانی لیڈرز کو خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔ سیدال خان نے کہا کہ ہنگامہ آرائی، شور شرابہ اور بد نظمی ناقابل برداشت ہے اور اجلاس نظم و ضبط کے مطابق چلایا جائے گا۔
ڈپٹی چیئرمین نے قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں غیر ضروری نعرے بازی پر پابندی ہوگی اور بد نظمی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی کارروائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں اور رولنگ پر عمل درآمد کے بعد ایوان کے ماحول میں بہتری متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہنگامہ ا رائی ڈپٹی چیئرمین کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔