جتھے لانا یا لشکر کشی کرانا، یہ سینیٹ میں نہیں ہوسکتا: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ میں نے سینیٹ اجلاس میں بطور قائم مقام چیئرمین رولنگ دی، میری رولنگ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جمہوری انداز سے پارلیمنٹ کے اندر بات کی جائے، ہم نے سینیٹ کو آئین اور قانون رولز کی روح کے مطابق چلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سینیٹ میں تمام پارلیمانی لیڈرز کو خطوط ارسال کیے ہیں، اس حوالے سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
اسلام آباد سینٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے.
سیدال خان ناصر نے کہا کہ سینیٹ میں تصویر اور بینرز نہ لائے جائیں، سینیٹ کے ڈیکورم کو خراب نہ کیا جائے، سینیٹ میں جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے بات کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جتھے لانا یا لشکر کشی کرانا، یہ سینیٹ میں نہیں ہو سکتا، آج ہم حکومتی بینچز پر بیٹھے ہیں تو کل کوئی اور جماعت بیٹھے گی۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر بھی جمہوری انداز سے بات کرنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔