Jasarat News:
2026-06-03@02:18:46 GMT

اوپن اے آئی نے نیا ماڈل جی پی ٹی 5.2 پیش کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنا نیا اور زیادہ طاقتور اے آئی ماڈل جی پی ٹی 5.2 متعارف کرا دیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی نے کچھ ہی عرصہ قبل جی پی ٹی 5.1 پیش کیا تھا، مگر گوگل جیمنائی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اس مقابلے کو مزید سخت بنا دیا، اور اسی تناظر میں اوپن اے آئی نے اپنا نیا ماڈل پیش کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ یہ دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

کمپنی کے مطابق جی پی ٹی 5.

2 نہ صرف پچھلے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد ہے بلکہ طویل، پیچیدہ اور کئی پرتوں والے کام کو بھی بے حد روانی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اوپن اے آئی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ عام صارف کو تکنیکی پیچیدگیوں سے زیادہ غرض نہیں ہوتی، اس لیے وہ صرف یہی جان لے کہ نیا ماڈل روزمرہ کے کاموں کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور سہل بناتا ہے۔

جی پی ٹی 5.2 تین مختلف موڈز—انسٹنٹ، تھنکنگ اور پرو—میں دستیاب ہوگا، جن میں ہر ایک کو مخصوص نوعیت کے استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سام آلٹمین نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اعلان کیا کہ نیا ماڈل چیٹ جی پی ٹی اور اے پی آئی دونوں پر فعال کردیا گیا ہے اور اس وقت دنیا کا “سب سے اسمارٹ” اے آئی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔

اوپن اے آئی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جی پی ٹی 5.2 کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی بہتر سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ ٹاسک کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے منطقی انداز میں حل ترتیب دیتا ہے، پیچیدہ سوالات کی تہہ تک پہنچتا ہے اور تحقیقی نوعیت کے سوالات پر بھی مؤثر جواب دیتا ہے۔

اس ماڈل کی میموری بھی نمایاں طور پر وسیع کر دی گئی ہے۔ اب صارف پورے پراجیکٹ فولڈر، تحقیقاتی مقالہ، قانونی دستاویزات، لمبی رپورٹ یا کوئی بھی بڑی فائل اپ لوڈ کرے، تو جی پی ٹی 5.2 ان مواد کو نہ صرف ٹریک کرے گا بلکہ اسے مسلسل یاد بھی رکھے گا۔ اسی میموری اپ گریڈ کی وجہ سے یہ چارٹس، ڈایاگرامز اور سافٹ ویئر کو بھی بہتر انداز میں سمجھنے اور تشریح کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ نیا ماڈل پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور اس میں غلطیوں کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کسی مقام پر غلطی پیدا بھی ہو جائے تو صارف کو اسے درست کرنے میں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔

جی پی ٹی 5.2 کو مرحلہ وار چیٹ جی پی ٹی پلس، پرو، گو، بزنس اور انٹرپرائز صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے، جبکہ پچھلے ورژن جی پی ٹی 5.1 تک رسائی آئندہ تین ماہ میں مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ پیش رفت نہ صرف اوپن اے آئی کے وژن کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مستقبل کی اے آئی جنگ میں اس کے اگلے بڑے قدم کا بھی اشارہ دیتی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اوپن اے آئی نے جی پی ٹی 5 2 نیا ماڈل

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا