100 خودکش ڈرون لے جانے والا جیو تیان، چین کی نئی ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو چونکا دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
چین کے دیوہیکل فضائی ڈرون کیریئر ‘جیو تیان’ (Jiu Tian) نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی۔
سرکاری خبر ایجنسی شنہوا کے مطابق یہ بڑا ڈرون شمال مغربی صوبے شانشی میں پہلی بار فضا میں بلند ہوا، تاہم پرواز کی درست تاریخ ظاہر نہیں کی گئی۔
یہ جدید ڈرون کیریئر ریاستی ایروسپیس ادارے AVIC کے ماتحت فرسٹ ائیرکرافٹ انسٹیٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیو تیان کو خودکار، مربوط اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت، طویل پرواز، وسیع رینج اور مختصر فاصلے میں ٹیک آف اور لینڈنگ جیسے فیچرز شامل ہیں۔
جیو تیان کو 2024 میں چین کے ژوہائی ایئر شو میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ یہ ڈرون 100 تک چھوٹے ’لوئٹرنگ منیشنز‘ یا خودکش ڈرونز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنہیں اس کے دونوں جانب موجود لانچ پوائنٹس سے چھوڑا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ پلیٹ فارم 8 ہارڈ پوائنٹس پر مختلف ہتھیار اور آلات بھی اٹھا سکتا ہے اور انٹیلی جنس، سرویلنس، ریکانائسنس (ISR) اور الیکٹرانک وارفیئر کے مشن بھی انجام دے سکتا ہے۔
چینی فوجی تجزیہ کار سونگ ژونگ پِنگ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم حقیقی معنوں میں ’’ڈرون کیریئر‘‘ ہے جو بڑے پیمانے پر سوارم حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن کا دفاع مخالف فضائی دفاعی نظام کے لیے نہایت مشکل ہوگا۔
شنہوا کے مطابق جیو تیان کی لمبائی 16.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔