سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے تعاون نہ کیا تو برازیل ماڈل اپنایا جا سکتا ہے: بیرسٹر عقیل
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا پاکستان کے حوالے سے دہرا معیار ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے پاکستان کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے معیار کو دہرا قرار دے دیا اور کہا کہ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے تعاون نہ کیا تو برازیل ماڈل بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
وزیر مملکت قانون بیرسٹر عقیل نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا پاکستان کے حوالے سے دہرا معیار ہے، فلسطین کے معاملے پر 24 گھنٹوں میں ویڈیو ڈیلیٹ کر دی جاتی ہیں، ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے دہشت گردی میں ملوث اکاؤنٹس کے آئی پی ایڈریس تک نہیں دیے جاتے، اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیا تو برازیل ماڈل کو بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث اکاؤنٹس اور ان کے مواد کو آٹو ڈیلیٹ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ برازیل ماڈل میں متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش اور جرمانہ بھی عائد کیا گیا، اس معاملے پر عالمی عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث 19 اکاؤنٹس بھارت اور 28 افغانستان سے آپریٹ کیے جا رہے تھے، چائلڈ پورنو گرافی کا ڈیٹا آٹو ڈیلیٹ ہو جاتا ہے تو دہشت گردی کا کیوں نہیں ہو سکتا؟
طلال چوہدری نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث اکاؤنٹس اور ان کے مواد کو آٹو ڈیلیٹ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 24 جولائی 2025ء کو سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ جاری کیا گیا تھا، حکومت ایک بار پھر مطالبہ کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان میں اپنے دفاتر بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سوشل میڈیا پلیٹ فارم دہشت گردی میں ملوث مملکت برائے طلال چوہدری برازیل ماڈل بیرسٹر عقیل جا سکتا ہے نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :