کوئٹہ، دفعہ 144 کا نفاذ، اسلحہ، ڈبل سواری، مفلر پہنے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ پابندیوں کے نفاذ کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر محکمہ داخلہ کو رپورٹ ارسال کریں۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے اعلامیہ کے مطابق اسلحہ کی نمائش و استعمال، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، گاڑیوں پر سیاہ شیشے، بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی حرکت، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس یا ریلیاں، اور عوامی مقامات پر چہروں کو چھپانے کے لیے مفلر یا ماسک کا استعمال ممنوع ہے، جس میں خواتین اور بچوں پر بھی پابندی شامل ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع کوئٹہ میں تیزاب اور دھماکہ خیز مواد کی نقل و حمل بھی سختی سے ممنوع ہے۔ پولیس، لیویز اور فرنٹیئر کور کو ان پابندیوں پر عملدرآمد کروانے کے اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف دفعات 188 تعزیرات پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔ محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ پابندیوں کے نفاذ کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر محکمہ داخلہ کو رپورٹ ارسال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔