Jasarat News:
2026-06-02@22:59:40 GMT

حکومت کاایکس پردوبارہ پابندی لگانے کا عندیہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: حکومت نے سوشل میڈیا پیٹ فارمز سے اپنے دفاتر پاکستان میں بنائے کا مطالبہ کیا جبکہ تعاون نہ کرنے پر ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دے دیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے اس حوالے سے ملکی و غیر ملکی میڈیا سے منسلک صحافیوں کو بریفنگ دی۔

طلال چودھری نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف ایکشن ہوگا، 24 جولائی کو سوشل میڈیا ریگولیشن سے متعلق باقاعدہ انتباہ جاری کیا تھا جس میں ان کو پاکستان میں دفاتر قائم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ انتباہ میں واضح کیا تھا کہ دہشتگرد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آزادانہ استعمال کر رہے ہیں جبکہ مختلف طریقوں سے دہشتگردی پھیلائی جا رہی ہے۔

کچھ سوشل میڈیا ایپ کا رسپانس دہشتگردی پر انتہائی کمزور ہے، دہشتگردی میں ملوث 19 اکاو¿نٹس بھارت اور 28 افغانستان سے آپریٹ ہو رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا پاکستان میں دفاتر بنانے کا مطالبہ دوبارہ دہرایا جاتا ہے، چائلڈ پورنوگرافی کا ڈیٹا آٹو ڈیلیٹ ہو سکتا ہے تو دہشتگردی کا مواد کیوں نہیں؟

’اے آئی کے ذریعے دہشتگردی میں ملوث اکاو¿نٹس کا مواد آٹو ڈیلیٹ کیا جائے۔ افغانستان سے 40 کالعدم تنظیموں کے آپریٹ ہونے کے واضح فٹ پرنٹس موجود ہیں۔

پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی اور مضبوط دیوار ہے، یہ دیوار کمزور ہوئی تو دہشتگردی کی آگ مغرب تک پھیل سکتی ہے۔

وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان سے متعلق دوہرا معیار رکھتے ہیں، فلسطین کے معاملے پر ویڈیوز 24 گھنٹے میں ڈیلیٹ کر دی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکس دہشتگردی میں ملوث اکاو¿نٹس کے آئی پی ایڈریس فراہم نہیں کرتا، تعاون نہ کیا گیا تو برازیل ماڈل یعنی ایکس کی بندش اور جرمانوں کا نفاذ ہو سکتا ہے، معاملے پر عالمی عدالت سے رجوع کرنا بھی ممکن ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی حکومت نے ایکس پر دو سال تک پابندی برقرار رکھی تھی۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز وزیر مملکت کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل