اوپن اے آئی ایک نیا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل جی پی ٹی 5.2 جاری کیا ہے۔

کچھ عرصے قبل ہی کمپنی نے چیٹ جی پی ٹی 5.1 پیش کیا تھا مگر اس نئے ماڈل کو متعارف کرانے کا مقصد گوگل جیمنائی کی مقبولیت میں اضافے سے اوپن اے آئی کو لاحق خطرات میں کمی لانا ہے۔

کمپنی کے مطابق جی پی ٹی 5.2 زیادہ قابل انحصار ماڈل ہے جو طویل، پیچیدہ اور الجھے ہوئے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی نے تسلم کیا کہ ایک عام فرد کو نئے ماڈل کی پیچیدہ صلاحیتوں کی کوئی پروا نہیں۔

تو اس نے لوگوں کو کہا ہے کہ ان کے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ یہ روزمرہ کے کاموں کے لیے بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔

چیٹ جی پی ٹی 5.

2 انسٹنٹ، تھنکنگ اور پرو موڈز میں دستیاب ہوگا۔

سام آلٹمین نے ایک ایکس پوسٹ میں بتایا کہ جی پی ٹی 5.2 اب چیٹ جی پی ٹی اور اے پی آئی میں دستیاب ہے جو کہ دنیا میں اس وقت سب سے اسمارٹ اے آئی ماڈل ہے۔

اپن اے آئی کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق یہ نیا ماڈل متعدد ٹاسک بہترین طریقے سے مکمل کرسکتا ہے۔

اس کے سوچنے کی صلاحیت ماضی کے ماڈلز کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے اور یہ پیچیدہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کرسکتا ہے، کسی مسئلے کو حل کرنے کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے۔

نئے ماڈل کی میموری بھی زیادہ بڑی ہے۔

اوپن اے آئی نے بتایا کہ جی پی ٹی 5.2 میں آپ پورے پراجیکٹ فولڈر، طویل رپورٹ، قانونی معاہدے، سائنسی مقالے یا کسی بھی دستاویز کو ایڈ کرسکتے ہیں۔

ایسا کرنے پر ماڈل کی جانب سے تفصیلات کو مسلسل ٹریک کیا جائے گا اور چیزوں کو یاد رکھا جائے گا۔

میموری اپ گریڈ ہونے کی وجہ سے اب یہ ماڈل چارٹس، ڈایا گرامز اور سافٹ وئیر کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکے گا۔

کمپنی نے بتایا کہ یہ نیا ماڈل زیادہ قابل اعتبار ہے اور اس میں غلطیوں کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

غلطیاں ہوسکتی ہیں مگر آپ کو انہیں چیک اور ٹھیک کرنے میں زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا پڑے گا۔

چیٹ جی پی ٹی 5.2 کو بتدریج چیٹ جی پی ٹی پلس، پرو، گو، بزنس اور انٹرپرائز سبسکرپشنز کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

جی پی ٹی 5.1 تک رسائی کو 3 ماہ میں ختم کر دیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی جی پی ٹی 5 2 جائے گا

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی