حقوق کو تعلیم، صحت، روزگار و انصاف تک حقیقی رسائی میں تبدیل کیا جائے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آئیے ہم قانون کی حکمرانی کو مضبوط کریں، آزادی کا تحفظ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انسانی حقوق کو جمہوریت کی روح قرار دیتے ہوئے ہر پاکستانی کے وقار، آزادی اور مساوی حقوق کیلئے اپنی جماعت کے غیر متزلزل عزم کی تجدید کی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انسانی حقوق کا دن مطالبہ کرتا ہے کہ حقوق کو تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک حقیقی رسائی میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق ہر فرد کو کسی مراعات یا طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف انسان ہونے کے ناطے ملتے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی زیرِ قیادت پارٹی کی جدوجہد کی تاریخی لیگیسی کو اجاگر کرتے ہوئے تمام اداروں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ شہری آزادیوں کے محافظ بنیں، امتیاز کا خاتمہ کریں اور جامع معاشرتی و معاشی ماحول تشکیل دیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئیے ہم قانون کی حکمرانی کو مضبوط کریں، آزادی کا تحفظ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان کے حوصلے کو قوم کا ضمیر قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی ایک ایسے حقوق پر مبنی اور انسان دوست پاکستان کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی، جہاں خواتین، بچے، اقلیتیں، خصوصی افراد، مزدور اور کمزور طبقات وقار، تحفظ اور مواقع کے ساتھ زندگی گزاریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔