فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول تک مقاومت جاری رہیگی، حماس
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
الجزیرہ سے اپنی ایک گفتگو میں اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے یہودی، صیہونی وزیراعظم "نتین یاہو" کے دہشتگردانہ منصوبوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور کہیں کہ صیہونی رژیم ان کی نمائندہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے رہنماء "اسامہ حمدان" نے کہا کہ حماس نے گزشتہ 4 دہائیوں سے مسئلہ فلسطین میں اہم کردار کیا۔ یہ تحریک قابضین کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی ایک صدی پر محیط مزاحمت کا تسلسل ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ قابضین، مقاومت کی تصویر مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مقاومت حماس کا نہیں بلکہ قومی فیصلہ ہے۔ اسامہ حمدان نے صیہونی رژیم کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں کہا کہ سیز فائر کے بعد اسرائیل نے 400 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر کے اس معاہدے کو پامال کیا، جن میں بیشتر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں صیہونی حملے میں شہید ہونے والے کمانڈر "رائد سعد" کی قربانی کا ذکر کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ رائد سعد نے اپنی جان وطن کے دفاع میں قربان کر دی۔
اسامہ حمدان نے کہا کہ حماس کے پاس یہ حق محفوظ ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دے۔ تاہم اس وقت ہم جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے قطر، مصر اور ترکیہ کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں حالانکہ صیہونی رژیم اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی گروہ، جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے ضامن کے طور پر بین الاقوامی افواج کی موجودگی سے متفق ہیں، بشرطیکہ ان افواج کے پاس کوئی دیگر اختیارات نہ ہوں اور وہ فلسطینی عوام کے خلاف نہ ہوں۔ حماس کے رہنماء نے کہا کہ ہم مزاحمت، بالخصوص مسلح جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں داخلی اختلافات ختم کرنے کے لئے قومی خواہش موجود ہے، لیکن قابض صیہونی، فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، غزہ کے خلاف جنگ میں تمام فلسطینی گروہوں کو اپنا دشمن قرار دیتا ہے۔
حماس کے رہنماء نے مطالبہ کیا کہ دنیا بھر کے یہودی، صیہونی وزیراعظم "نتین یاہو" کے دہشت گردانہ منصوبوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور کہیں کہ صیہونی رژیم ان کی نمائندہ نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم انسانی خون کا احترام کرتے ہیں اور اسے بہانے کی ہمت نہیں رکھتے۔ دوسری جانب دنیا کو اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی فلسطینی قوم کی نسل کشی پر ہم سے معافی مانگنی چاہئے۔ اسامہ حمدان نے کہا کہ ہمارے کسی بھی رہنماء نے 7 اکتوبر کو ہوئے اسرائیل کے خلاف آپریشن طوفان الاقصیٰ کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد کمانڈروں کی شہادت کے بعد، حماس دوبارہ سے اپنی صفوں کو منظم کر رہی ہے۔ دنیا ہمارے استحکام کو دیکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ صیہونی رژیم کہا کہ ہم
پڑھیں:
پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں