معروف امریکی یہودی فلم ساز، اداکار اور ڈائریکٹر رابرٹ راب رینر اور ان کی اہلیہ مشیل سنگر رینر کو ان کے برینٹ ووڈ، کیلیفورنیا کے اپنے ہی گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کو قتل کا مشتبہ کیس قرار دیا ہے۔

پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کو 14 دسمبر 2025 بروز اتوار دوپہر تقریباً 3:30 بجے ایک میڈیکل ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔ موقع پر پہنچنے پر 78 سالہ مرد اور 68 سالہ خاتون کے مردہ جسم گھر کے اندر ملے، غالب امکان ہے کہ وہ رابرٹ راب رینر اور ان کی اہلیہ مشیل ہیں کیونکہ ان کی عمریں رینر اور ان کی اہلیہ کے مماثل تھیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں کے جسموں پر خنجر کے وار تھے، جس کی وجہ سے پولیس اس واقعہ کو قتل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ لاپتہ افراد اور ممکنہ ملزم/ملزمان کے بارے میں اب تک کوئی گرفتاری یا معلومات جاری نہیں ہوئی۔

رابرٹ رینر کون تھے؟

رابرٹ رینر امریکی فلم ڈائریکٹر، اداکار اور سکرین رائٹر تھے جو 1970 کی دہائی میں مشہور ہوئے، خاص طور پر ٹیلیویژن سیریل All in the Family میں ’مایک ’میٹھ ہیڈ‘ اسٹِوک‘ کے کردار سے، جس نے انھیں شائقین میں بے حد مقبول بنایا۔ بعد میں وہ ایک کامیاب فلم ساز بنے اور انہوں نے متعدد مشہور فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔ ان فلموں کو عالمی سطح پر خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔

رینر 6 مارچ 1947 کو برونکس، نیویارک میں پیدا ہوئے اور ان کے والد کارل رینر بھی ایک معروف کامیڈین، اداکار اور ڈائریکٹر تھے۔

 رابرٹ رینر اور میشل سنگر کی شادی 1989 میں ہوئی تھی اور ان کے 3 بچے تھے۔ جوڑے کی شراکت اور زندگی فلمی صنعت میں بہت عرصے تک ایک مستحکم اور محبت بھرا تعلق تصور کی جاتی تھی۔

پولیس کی تفتیش

لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ واقعے کی تفتیش کر رہا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ قتل کیوں اور کس نے کیا۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ تمام شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انٹرٹینمنٹ یہودی فلم ساز رابرٹ رینر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انٹرٹینمنٹ یہودی فلم ساز رابرٹ رینر رینر اور فلم ساز اور ان

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن