دھریندر کے جواب میں پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ میدان میں آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
پاکستان بھارت کی پروپیگنڈا فلم دھریندر (Dhurandhar) کے جواب میں ’میرا لیاری‘ کے نام سے فلم بنا کر لیاری کی اصل اور مثبت تصویر دنیا کے سامنے اجاگر کرے گا۔
بھارتی فلم دھریندر میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، ارجن رامپال، آر مادھون اور سنجے دت نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ فلم میں لیاری کو ایک خیالی اور منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں ایک بھارتی جاسوس کراچی کے گینگز کا خاتمہ کرتا دکھایا گیا ہے، فلم میں لیاری کو بھارت کے اندرونی مسائل سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے ’میرا لیاری‘ کے نام سے فلم پیش کی جا رہی ہے، جسے دھریندر کا ثقافتی اور حقیقت پسندانہ جواب قرار دیا جا رہا ہے، اس فلم کے ذریعے لیاری کے اسپورٹس کلچر، تہذیب اور مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کیا جائے گا۔
میرا لیاری سے اداکارہ دنانیر مبین فلمی دنیا میں قدم رکھ رہی ہیں، جبکہ سینئر اداکارہ سمیعہ ممتاز بھی فلم میں ایک اہم کردار ادا کریں گی، یہ فلم پہلے ’بہناز‘ کے نام سے بنائی جا رہی تھی، تاہم اب اس کا نام تبدیل کر کے ’میرا لیاری‘ رکھ دیا گیا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ دھریندر لیاری کے خلاف ایک پروپیگنڈا فلم ہے، جبکہ میرا لیاری کے ذریعے علاقے کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لایا جائے گا، جو امن، ترقی اور فخر کی علامت ہے، لیاری تشدد نہیں بلکہ ثقافت، کھیل اور زندہ دلی کا نام ہے۔
فلم کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں، ایک صارف نے لکھا کہ اس فلم کا بےصبری سے انتظار ہے، دوسرے نے تبصرہ کیا کہ یہ فلم اس بھارتی پروپیگنڈے کا جواب ہے اور اسے عالمی سطح پر پیش کیا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میرا لیاری
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔