لاہور: پولیس افسر ہی قاتل نکلا، اہلیہ اور بیٹی کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
پنجاب پولیس کے ڈی ایس پی عثمان حیدر کی اہلیہ اور کمسن بیٹی کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں انتہائی افسوسناک اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ڈی ایس پی عثمان حیدر نے گھریلو ناچاقی کے باعث اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
لاہور میں درج اغواء کے مقدمے کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے واقعے کو اغوا کا رنگ دے کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں:
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے قتل کے بعد خود ہی تھانہ برکی میں اہلیہ اور بیٹی کے اغواء کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ عثمان حیدر کی دو شادیاں تھیں اور مقتولہ اس کی پہلی بیوی تھی، جس سے اس نے محبت کی شادی کی تھی۔
دوسری شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان اختلافات اور گھریلو جھگڑے شدت اختیار کر گئے، جو بالآخر اس المناک واقعے پر منتج ہوئے۔
مزید پڑھیں:
پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو تنازع کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر فائرنگ کر کے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو قتل کیا۔
واقعے کے بعد عثمان حیدر نے خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے اہلیہ اور بیٹی کی تلاش کا ڈرامہ رچایا اور متعدد مرتبہ سسرال جا کر ان پر اغوا کا الزام بھی عائد کرتا رہا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ بیٹی کی لاش کاہنہ جبکہ اہلیہ کی لاش شیخوپورہ سے برآمد کر لی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی عثمان حیدر کو حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ ملزم کی دوسری بیوی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔
ایس پی کی زیر نگرانی تفتیش جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات کے دوران اس افسوسناک واقعے کے دیگر پہلو بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس ڈی ایس پی عثمان حیدر لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس ڈی ایس پی لاہور ڈی ایس پی عثمان حیدر اہلیہ اور بیٹی
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان