ڈی ایس پی عثمان حیدر ہی اپنی بیوی اور بیٹی کا قاتل نکلا، اعتراف جرم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ڈی ایس پی عثمان حیدر ہی اپنی بیوی اور بیٹی کا قاتل نکلا، اعتراف جرم کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 December, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے اغوا کا معاملہ حل ہو گیا، ڈی ایس پی ہی اپنی بیوی اور بیٹی کا قاتل نکلا۔ڈی آئی جی ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی عثمان حیدرنے بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی ایس پی عثمان حیدرنے بیوی اور بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کیا، عثمان حیدر نے بیوی اور بیٹی کے اغوا کی ایف آئی آر تھانہ برکی میں درج کراوئی گئی تھی، ڈی ایس پی عثمان حیدر نیایک ماہ قبل بیوی اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ڈی آئی جی ذیشان رضا کے مطابق عثمان حیدر کی بیٹی کی لاش کاہنہ اور بیوی کی لاش شیخوپورہ سے برآمد کر لی گئی ہے، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے اور ملزم سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے گھر یلو ناچاقی پر اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کیا، ڈی ایس پی عثمان حیدر نے دو شادیاں کر رکھی تھیں، مقتولہ عثمان حیدر کی پہلی بیوی تھی، دوسری شادی کے بعد جھگڑے شروع ہو گئے تھے، تفتیش میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیض حمید کے ساتھ 2حاضر سروس برگیڈیرز کو بھی سزا ہوئی ہے، جاوید لطیف کا دعوی فیض حمید کے ساتھ 2حاضر سروس برگیڈیرز کو بھی سزا ہوئی ہے، جاوید لطیف کا دعوی نواز شریف ستر ہزار حرام ووٹ لیکر مسلط ہوئے، انکو لانے والوں کا چالان کون کریگا، حافظ نعیم آسٹریلیا میں سڈنی کے ساحل پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 12افراد ہلاک، متعدد زخمی اس بار ڈی چوک سے آزادی لیکر یا کفن میں واپس آئیں گے، وزیراعلی خیبر پختونخوا بگرام ایئربیس پر فوجی ساز و سامان کی تیاری کا طالبان رجیم کا پروپیگنڈا بے نقاب پی ٹی آئی رہنما قاضی انور ایڈووکیٹ پارٹی سے مستعفی ہوگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈی ایس پی عثمان حیدر اپنی بیوی اور بیٹی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔