ایک ساز، ایک شہر، ایک خواب: سلیمان حیدر کا کلاسیکل موسیقی کو بچانے کا سفر
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سندھ کے تاریخی شہر شکارپور سے تعلق رکھنے والے سلیمان حیدر ایک ایسے فن کے امین ہیں جس کے اردگرد اب صرف خاموشی باقی رہ گئی ہے۔ وہ کلاسیکل موسیقی کے ساتھ سرمنڈل بجاتے ہیں۔ ایک ایسا ساز جس کی نرم، مدھم اور گہری آواز کبھی برصغیر کے درباروں اور محفلوں میں گونجتی تھی، مگر آج اسے بجانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
شکارپور کبھی موسیقی کا مرکز تھا، یہاں کے لوگ کلاسیکل موسیقی کو دل سے سنتے اور سراہتے تھے، لیکن اب شہر میں اس فن کا چراغ بجھتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں موسیقی کے رنگ، چینی کورس نے عربی زبان میں پہلی بار گیت پیش کیے
سلیمان حیدر کا کہنا ہے کہ ان کے شہر میں کلاسیکل موسیقی کا رجحان تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ’وہاں گانے والا بھی میں ہوں اور سننے والا بھی میں ہی ہوں‘
یہی خاموشی انہیں اندر تک چیرتی ہے، اور اسی درد نے انہیں شکارپور سے لاہور سفر پر مجبور کیا۔
لاہور، وہ شہر جو آج بھی موسیقی کی دھڑکن سمجھا جاتا ہے، جہاں سازوں کی آوازیں گلیوں، اسٹوڈیوز اور محفلوں میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔
سلیمان حیدر کہتے ہیں کہ لاہور ہمیشہ سے کلاسیکل موسیقی کا مرکز رہا ہے۔ یہاں لوگ موسیقی کو صرف سنتے نہیں بلکہ اسے محسوس بھی کرتے ہیں۔
سلیمان کا خواب بڑا اور واضح ہے کہ پاکستان کی کلاسیکل موسیقی کو ایک بار پھر وہ مقام دلانا جو کبھی اسے ملا کرتا تھا، تاکہ نئی نسل کلاسیکل میوزک کی نرمی، گہرائی اور اس کی روحانی خوبصورتی کو جان سکے۔
مزید پڑھیں: پشاور کے نوجوانوں میں آرٹ اور موسیقی کا شعور بیدار کرتا ادارہ
شکارپور سے نکل کر لاہور تک کا یہ سفر صرف ایک موسیقار کی ہجرت نہیں، بلکہ ایک مرتے ہوئے ساز کی آخری سانسوں کو بچانے کی کوشش ہے۔
ایک ایسی کوشش جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر شہر اپنی ثقافت کے لیے جگہ بنائیں تو فن مر نہیں سکتا، صرف نئی زمین تلاش کر لیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سلیمان حیدر سندھ کلاسیکل موسیقی لاہور میوزک وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سلیمان حیدر کلاسیکل موسیقی لاہور میوزک وی نیوز کلاسیکل موسیقی سلیمان حیدر موسیقی کو موسیقی کا
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.