افغان پناہ گزین امریکا سمیت عالمی سلامتی کیلئے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں، تلسی گبارڈ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
کابل: (نیوزڈیسک) افغان طالبان کی زیرِ اقتدار افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم افغان باشندے غیر قانونی سرگرمیوں، سمگلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں، جس سے عالمی سلامتی کو سنگین خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے امریکہ میں موجود افغان شہریوں کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم دو ہزار افغان شہری دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہیں یا مشتبہ دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مختلف دہشت گرد گروہ اب بھی امریکہ کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر نے بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکہ ہجرت کرنے والے افغان باشندوں کے بارے میں ہوشربا معلومات سامنے لائیں۔ ان کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر نے ملک میں داخل ہونے والے تقریباً 18 ہزار افغان شہریوں کی نشاندہی کی ہے جو بدنامِ زمانہ یا مشتبہ دہشت گرد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ افراد تھے جن کے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات تھے اور وہ امریکہ میں داخل ہوئے۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر کے بیانات کے مطابق افغان مہاجرین کو امریکہ کے لیے سب سے بڑے سکیورٹی خطرات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جس کی نشاندہی امریکی میڈیا ادارے فوکس نیوز نے بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر دنیا کے مختلف ممالک نے اپنی سرزمین پر افغان باشندوں کے داخلے اور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز عالمی امن کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔