وفاقی حکومت نے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے، رہنما پی پی پی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
کراچی:
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے کہا ہے کہ ہمیں وفاقی حکومت نے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم ملک میں مزید مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
سیکریٹری اطلاعات پی پی پی شازیہ مری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو وائرس ہمارے بچوں کا بہت بڑا دشمن ہے، سندھ بھر میں پولیو سے نمٹنے کے لیےعملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، بدقسمتی سے آج بھی پاکستان میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسان مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، زراعت پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، صدر آصف علی زرداری نے ہمیشہ کہا زراعت کو مضبوط کرنا ہے، آج اگر کسانوں پر توجہ نہ دی تو کسی حکومت کا نہیں ملک کا نقصان ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسان کومضبوط کریں گے تو ملک کی معیشت مضبوط ہوگی، یہ بات بالکل درست ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور پی ایس ڈی پی مل کر بنانے کا وعدہ ہوا تھا۔
شازیہ مری نے کہا کہ اگر بند کمروں میں پی ایس ڈی پی بنائیں گے تو ناانصافی ہوتی ہے، ہمیں وفاقی حکومت نے تحفظات دور کرانےکی یقین دہانی کرائی ہے، ہم نہیں چاہتے ملک کے مسائل میں مزید اضافہ کریں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ناطے وہ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی حامی نہیں لیکن سیاسی جماعت ملکی مفاد کو نقصان پہنچائے تو پابندی لگنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت شرارت کرے اور ملکی مفاد کو نقصان پہنچائے تو اس پر پابندی لگنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے وقت ہم سے بہت سے وعدے کیے گئے تھے لیکن وہ پورے نہیں ہوئے اس وقت یہ بھی طے ہوا تھا کہ پی ایس ڈی پی بناتے ہوئے ہمیں اعتماد میں لیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
شازیہ مری نے کہا کہ ہمیں غربت اور مہنگائی کے خلاف جنگ لڑنی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان شازیہ مری نے نے کہا کہ
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔