وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نیب کے ذریعے کسی بھی قسم کے سیاسی انتقام اور کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی، نیب کو مکمل ادارہ جاتی آزادی حاصل ہے تاکہ وہ شفافیت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھ سکے۔

یہ بات وزیراعظم نے عالمی انسداد بدعنوانی دن کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد تقریب سے خطاب میں کہی۔

مزید پڑھیں: 2 سال 7 ماہ میں 8 کھرب 40 ارب روپے کی ریکوری کی، بدعنوانی ختم ہو جائے تو قرضہ لینے کی ضرورت نہیں، چیئرمین نیب

تقریب میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی مالی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے شاندار کارروائیوں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں مالی بدعنوانی سے پاک معاشرہ ہی ترقی، خوشحالی اور عوامی اعتماد کی ضمانت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام منصوبوں اور اقدامات میں مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی شفافیت کو یقینی بنانا اپنی اولین ترجیحات میں رکھتی ہے۔

اس موقع پر چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے 2025 میں نیب کی غیر معمولی کارکردگی اور 5.

1 ٹریلین روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی وصولیوں کی تفصیلات پیش کیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2022 کے بعد اٹھائے گئے اصلاحاتی اقدامات کی بدولت نیب کی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

تقریب میں نیب کے افسران کو اعزازی شیلڈز اور اعلی کارکردگی دکھانے والے افسران کو عمرے کی ادائیگی کے مواقع سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ UNODC کے نمائندے نے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آف یوتھ افیئرز فلپ پولیر کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔

مزید پڑھیں: بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، عطااللہ تارڑ، اعظم نزیر تارڑ، نیب کے اعلیٰ افسران، ڈی جی ایف آئی اے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سیاسی انتقام شہباز شریف نیب وزیراعظم پاکستان وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیاسی انتقام شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز نیب کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری