data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-03-4
مجاہد چنا
قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہم سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزرہا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وطن عزیز کو اس نازک صورتحال پر کس نے پہنچایا ہے اور اس کو کون اور کیسے اس صورتحال سے نکال سکتا ہے۔ بدقسمتی 1947 سے اب تک حکومتیں، چہرے پارٹیاں اور جھنڈے تو بدلتے رہے مگر ملک و قوم کے حالات بدلنے تو کجا مزید بدتر ہوتے گئے۔ کہتے ہیں کہ جب پاکستان بنا تو ایک ڈالر ایک روپے کا تھا مگر اب تین سو کے قریب ہے۔ مثالی امن تھا مگر اب عوام دن ہو یا رات غیر محفوظ ہیں۔ یہاں تک کے خود حکومتی نمائندے غیر محفوظ ہیں۔ کراچی میں صوبائی مشیر اور نوشہرو فیروز میں حکومتی ایم این اے کے گھر سے کروڑوں روپے کی ڈکیتی بدامنی کی بدترین مثال ہے ۔ پہلے کراچی سمیت بڑے بڑے شہروں کی سڑکوں کو پانی سے دھویا جاتا تھا، سڑکیں اور شہر صاف ستھرے اور سڑکیں کشادہ ہوتی تھیں مگر اب سڑکوں پر گڑھے اور شہر گندگی کے ڈھیر اور موئن جو دڑو کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اب ای چالان نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ ظلم وناانصافی کی انتہا نہیں کہ سڑکیںکچے سے بھی بدتر اور چالان دبئی اور عالمی معیار کے کاٹے جارہے ہیں ۔ صوبہ سندھ کے عوام سب سے زیادہ اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول زرداری کہتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ کسی صوبہ سے نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے ہے!
اس صورتحال کے پیش نظر جہاں ہر طرف مایوسی و ناامیدی ہو وہاں پر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے عوام کو حوصلہ خاص طور نوجوانوں کو امید دلانے کے لیے 21 نومبر کو تاریخی مقام مینار پاکستان کے سائے تلے ’’بدل دو نظام‘‘ کے نعرے کے تحت اجتماع عام کے انعقاد کا اعلان کیا۔ جس کے لیے مرکزی نائب امیر محترم لیاقت بلوچ کو ناظم اجتماع مقرر کیا جو دن رات اپنے مہمانوں شرکاء اجتماع کے لیے بہتر سے بہتر انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔ 1941 میں قائم ہونے والی جماعت اسلامی کے اجتماع عام ہوتے رہے ہیں، 21 تا 23 نومبر لاہور میں ہونے والا اجتماع عام 16 واں اجتماع عام ہوگا۔ ناظم اجتماع محترم لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع عام محض ایک اجتماع، جلسہ عام اور پاور شو نہیں ہوتا۔ اجتماع عام کا اصل مقصد دعوت کو عام کرنا ہے، اجتماع قرآن و سنت کے پیغام اور جذبوں سے امت مسلمہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اجتماع عام کے لیے 50 شعبے اور 14 نائب ناظمین مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کے ذمے داران کو ہدایت کی ہے کہ ممبر سازی مہم کے دوران بنائے گئے سوا تین لاکھ ممبروں سے رابطے مضبوط کیے جائیں اور انہیں لاہور کے اجتماع عام میں شریک کرایا جائے۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل تک جماعت اسلامی کے کل مرد ارکان کی تعداد 39620، خواتین ارکان 7383 جبکہ اس کے علاوہ امیدوار ارکان، کارکنان، اقلیتی ویوتھ ممبران بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ گزشتہ 78 سال سے وطن عزیز پر قابض کرپٹ حکمرانوں، اشرافیہ، جرنیلوں اور بیوروکریسی نے عام پاکستانی کو ظلم، ناانصافی، جعلی انتخابات اور طبقاتی نظام کے بوجھ تلے دبا کر رکھا ہوا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس فرسودہ طبقاتی نظام کو بدلا جائے۔ جماعت ِ اسلامی پاکستان نا صرف ملک گیر دیانتدار قیادت کی حامل واحد حقیقی جمہوری پارٹی کا درجہ رکھتی ہے، بلکہ شفاف سیاست کی ایسی علامت ہے جو کلٹ اور شخصیات کی سیاست کے بجائے منصفانہ نظام، ایک نصاب اور ایک زبان پر مبنی پاکستان کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں خیبر سے کراچی تک کے لاکھوں مردو خواتین اور نوجوانوں کو تعمیری انقلاب کے لیے اکٹھا کرنے کے لیے لاہور میں جماعت اسلامی مینار پاکستان پر ’’بدل دو نظام‘‘ اجتماع عام کا انعقاد کر کے ایک زبردست عوامی تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔ کرپٹ نظام اور کرپٹ قیادت کی وجہ سے ملک اس وقت سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بدامنی اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان بہت مایوس ہیں اور عام آدمی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بھی سخت پریشان ہے۔ اس وقت کسانوں، خواتین، محنت کشوں اور سرکاری ملازمین سمیت ہر طبقہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکل آیا ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ چہروں سے نہیں، نظام کی تبدیلی سے ہی عام لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں، مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ملک ترقی کر سکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ملک میں نظام کی تبدیلی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ہے۔ جس میں کرپٹ نظام کی تبدیلی کا مکمل پروگرام دیا جائے گا۔ عوام خاص طورپر نوجوانوں کو چاہیے کہ مایوس ہونے کے بجائے مینار پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں اور نظام کی تبدیلی کو ممکن بنائیں۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ہرشہری کو ناانصافی، ظلم اور طبقاتی نظام کو بدلنے کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کی اس تحریک کا حصہ بن جانا چاہیے تاکہ اسلامی انقلاب کی منزل قریب سے قریب تر اور عوام کے دکھوں کا مداوا ہوسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نظام کی تبدیلی جماعت اسلامی رہے ہیں ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :