افغان حکام سفارتی اصولوں اور ضوابط کی پاسداری کریں‘اے این پی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-08-23
ُپشاور (آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی نے استنبول مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز اختتام پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی کابل حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عسکری طرزِ فکر سے نکل کر ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اپنائیں، اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں اور ضوابط کی پاسداری کریںا ورکہا ہے کہ امن عمل میں دونوں طرف کے سیاسی اور کاروباری قوتوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ایک بیان میں اے این پی کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ جنگ اور تشدد کسی بھی سیاسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہو سکتے۔ پائیدار اور باعزت امن، جو جامع مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حاصل ہو، تمام فریقین کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کابل حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عسکری طرزِ فکر سے نکل کر ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اپنائیں، اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں اور ضوابط کی پاسداری کریں۔ یہ تبدیلی افغانستان کی داخلی استحکام اور بین الاقوامی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔پارٹی اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ پاکستان مخالف عسکری گروہوں کی سرپرستی ایک نقصان دہ حکمتِ عملی ہے، جو خطے کے امن اور مشترکہ سلامتی کے مفادات کو کمزور کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے این پی
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔