امریکا میں مقیم 2 ہزار افغان شہریوں کے دہشتگرد تنظیموں سے ممکنہ روابط کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
امریکی سیکیورٹی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا میں مقیم تقریباً 2 ہزار افغان شہریوں کے مختلف دہشتگرد تنظیموں سے ممکنہ روابط سامنے آئے ہیں، جس کے بعد امریکی سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے کانگریس کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 کے بعد افغانستان سے امریکہ منتقل کیے گئے تقریباً 88 ہزار افغان شہریوں میں سے قریباً 2 ہزار افراد کو سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان افراد کے بارے میں معلومات محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ایف بی آئی کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں، جبکہ معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض کیسز میں ممکنہ عسکری یا شدت پسند گروہوں سے تعلق کے شواہد سامنے آئے ہیں، تاہم ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ تاحال ان افراد کے خلاف کسی بڑے پیمانے پر گرفتاری یا قانونی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سیکیورٹی سکریننگ کے نظام پر سوالات ضرور اٹھے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد امریکی کانگریس میں افغان مہاجرین کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو مزید سخت کرنے پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس معاملے نے امیگریشن پالیسی، قومی سلامتی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات پر نئی بحث کو جنم دیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔