پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کے پیچھے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: گزشتہ ماہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے کے پیچھے ملوث دہشتگرد نیٹ ورک کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق حملہ آور کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور پشاور میں قیام کے دوران شہر کے مختلف راستوں اور اہم مقامات کی نگرانی کر کے پلان تیار کیا۔
حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کو خودکش جیکٹس کی فراہمی اور رہائش کے انتظامات بھی فراہم کیے گئے، جبکہ ان کی نقل و حرکت میں مدد کرنے والے افراد کی نشاندہی کے لیے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک 150 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے اور کئی ملزمان کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے۔
یاد رہے کہ اس حملے میں 3 ایف سی اہلکار شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، جبکہ حملے میں شامل 3 خودکش بمبار بھی مارے گئے تھے۔ تفتیشی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نیٹ ورک مستقبل میں بھی بڑے اہداف پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اس لیے سکیورٹی ادارے شہر کے حساس مقامات کی نگرانی بڑھا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔