پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کے پیچھے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: گزشتہ ماہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے کے پیچھے ملوث دہشتگرد نیٹ ورک کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق حملہ آور کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور پشاور میں قیام کے دوران شہر کے مختلف راستوں اور اہم مقامات کی نگرانی کر کے پلان تیار کیا۔
حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کو خودکش جیکٹس کی فراہمی اور رہائش کے انتظامات بھی فراہم کیے گئے، جبکہ ان کی نقل و حرکت میں مدد کرنے والے افراد کی نشاندہی کے لیے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک 150 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے اور کئی ملزمان کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے۔
یاد رہے کہ اس حملے میں 3 ایف سی اہلکار شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، جبکہ حملے میں شامل 3 خودکش بمبار بھی مارے گئے تھے۔ تفتیشی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نیٹ ورک مستقبل میں بھی بڑے اہداف پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اس لیے سکیورٹی ادارے شہر کے حساس مقامات کی نگرانی بڑھا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔
رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔