کپل شرما کی نئی فلم تنازع کا شکار ہوگئی، وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
بھارتی کامیڈین کپل شرما کی نئی فلم ”کس کس کو پیار کروں 2“ نے ریلیز ہوتے ہی صارفین کی رائے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔
بارہ دسمبر 2025 کو بھارتی سنیما گھروں میں ریلیز ہو نے والی یہ فلم 2015 کی ہٹ کامیڈی فلم کا سیکوئل ہے، کپل شرما فلم میں موہن کا کردار ادا کررہے ہیں، جو لومیرج کرنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ عجیب و غریب حالات کی وجہ سے تین مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین میں الجھ جاتے ہیں۔ فلم میں کئی مزاحیہ سین ہیں، جسےکچھ لوگوں نےسراہا تو کچھ نے اسے پرانا اور گھسا پٹا کہا۔
فلم کی ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسے ”کپل شرما شو کا ایک اور ورژن“ قرار دیا ہے، جبکہ کئی صارفین کا کہنا ہےکہ ”کہانی زبردستی کھنیچی گئی ہے اور مذاق بھی پرانا ہے۔ ڈائیلاگ ایسے ہیں، جسے بولتے ہوئے اداکار خود بھی شرمندہ نظر آتے ہیں۔“
⭐
Absolutely Terrible! ????
“Kis Kisko Pyaar Karoon 2”
The story feels forced, the jokes are painfully recycled, and the dialogues are so cringe that even the actors look embarrassed saying them.
The performances? — No one could save this disaster.#KisKiskoPyaarKaroon2 pic.twitter.com/BvcWTplTVF
— ????ℝ???????? (@Arif011111) December 12, 2025
ایک صارف نے کہا، ”کس کس کو پیار کروں 2 بہت ہی بے زار مووی ہے۔ پرانی کہانی کو دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔“
ایک اور صارف نے رائے دیتے ہوئے کہا، ”فلم میں کچھ بھی نیا پن نہیں ہے، بس نام بدل کر سیکوئل بنا دیا ہے۔کپل شرما کی اداکاری فلم میں بہت اچھی ہے، لیکن باقی ادکاروں کی اداکاری نے بہت زیادہ مایوس کیا ہے۔“
کچھ اور تبصروں میں کہا گیا ہے کہ یہ فلم ایک ”ٹیکسٹ بک مثال ہے“ کہ کس طرح ایک اچھی فلم کو برباد کیا جا سکتا ہے۔
#KisKiskoPyaarKaroon2 Review:
Pure Comedy Therapy After #Dhurandhar ????????
Craving light-hearted entertainment?
You’ve hit the jackpot with #KKPK2—a 2h22m hilarious ride that’s pure stress-buster ????@KapilSharmaK9‘s comedy is therapy amid life’s tensions—job, relationships,… pic.twitter.com/LjuU4Fb8D2
— Ashwani kumar (@BorntobeAshwani) December 11, 2025
ایک اور صارف اسد نے مختلف زاویہ پیش کرتے ہوئے اسے اچھی کامیڈی کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے، اگرچہ کہانی پچھلی فلم سے ملتی جلتی ہے، لیکن فلم تفریح فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے اور یہی سب سے اہم ہے۔ مرکزی اداکارائیں تریدھا چوہدری، عائشہ خان اور پارول گُلاٹی نے اپنا کردار اچھے سے نبھایا ہے۔ موسیقی بھی بہت اچھی ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک ہلکی پھلکی تفریحی فلم ہے جو ٹریلر میں دکھائے گئے وعدے کو پورا کرتی ہے۔
#KisKiskoPyaarKaroon2 Review
⭐️⭐️⭐️⭐️/5#KKPK2 from start to finish is a full-on #KapilSharma show. He carries the entire film on his shoulders with his trademark comic timing and effortless screen presence. #ManjotSingh also delivers several effective punchlines that add to… pic.twitter.com/BJatPeKzDx
— Asad (@KattarAaryan) December 11, 2025
بقول ایک صارف کپل شرما کی فلم ”کس کس کو پیار کروں تفریح اور مزاح کا حسین امتزاج ہے۔ کپل شرما کی کامیڈی اور منجوت سنگھ کی شاندار پرفارمنس نے اس فلم کو مزید مزے دار بنا دیا ہے۔“
اس فلم کو انوکلپ گوسوامی نے ڈائریکٹ کیا ہے اور پروڈکشن رتن جین اور گنیش جین نے کی ہے۔ اس میں حرا ورینہ، عائشہ خان، ترِیدھا چودھری اور منجوت سنگھ جیسے اداکار بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کپل شرما کی فلم میں
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین