حیدرآباد ،محکمہ زراعت کا دفتر زبوں حالی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-2-18
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ایپکا سندہ امن گروپ کے صوبائی جنرل سیکرٹری شاہد سومرو۔ غلام نبی سولنگی۔ ساجن انصاری۔ شمشیر پالاری نے شہباز بلڈنگ حیدرآباد میں ایگریکلچر کے ملازمین سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل ڈاریکٹر ایکسٹیشن محکمہ زراعت کا ضلع حیدرآباد کا دفتر کافی عرصی سے مکمل طور پر زبوں حالی کا شکار بنا ہوا ہے لیکن سرکاری ملازمین اس بھوت بنگلہ کا منظر پیش کرنے والے اس دفتر میں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر سرکاری امور چلانے میں مصروف ہیں دفتر کیکئی کمروں کا پلستر جھڑ کر گرنے کے بعد ان کمروں کو عملے نے تالے ڈال کر بند کردیا ہے۔ حالیہ بارشوں میں اس دفتر کی چھتوں سے کمروں میں پانی داخل ہونے سے سرکاری دفتر کا سامان بھی متاثر ہو تھا اور دیگر سامان کو بھی نقصان ہوا تھا اور ان کمروں میں اب تک خوف کے عالم میں ملازمین اپنے فرائض سرانجام دینے پر مجبور بنے ہوئے ہیں۔ کئی سالوں سے سرکاری کتنی گاڑیاں خراب ہیں جن کو اینٹوں پر کھڑا کردیا گیا ہے۔ ایپکارہنماوں نے کہا کہ ایڈیشنل ڈاریکٹر محکمہ زراعت ایکسٹیشن حیدرآباد کی ضلع دفتر کو سندھ حکومت متبادل دفتر حیدرآباد سٹی میں فراہم کرے تاکیکام کرنے والے سرکاری ملازمین کی زندگیاں محفوظ بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی۔ جی زراعت ایکسٹیشن سندھ کی پرانی عمارت مسمار کرکے ملبہ ابھی تک نہیں اٹھایا گیا ہے انہوں نے آخر میں وزیر اعلی سندہ۔ صوبائی وزیر زراعت سندہ۔ ڈویزنل۔کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سے مطالبہ کیا کہ بھوت بنگلہ کا منظر پیش کرنے والے زراعت معکمے حیدرآباد کے دفتر فوری طور مسمار کرتے ہوئے امکانی کسی بڑے حادثے سے بچایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔