کراچی میں تختیاں نہیں، ترقی بول رہی ہے، عملی کام ہماری پہچان ہے، مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس علاقے میں دس کروڑ روپے کی لاگت سے اندرونی گلیاں تعمیر کیں، سوا دو لاکھ اسکوائر فٹ پیور بلاکس بچھائے اور سیوریج کے درہم برہم نظام کو درست کیا، مکینوں سے وعدہ لیا گیا کہ پیور لگنے کے بعد دوبارہ روڈ کٹنگ نہیں کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اگر کسی کے پاس کام کرنے کی نیت اور صلاحیت نہیں تو وہ گھر چلا جائے، ہم کام کر کے دکھائیں گے کہ خدمت کیسے کی جاتی ہے، وسائل نہ ہونے کا بہانہ اب قبول نہیں، کیونکہ کروڑوں روپے اکاؤنٹس میں ہونے کے باوجود بھی کام نہیں ہو رہا، جو سراسر منافقت ہے، یونین کمیٹیوں کو ملنے والے فنڈز کا آڈٹ اسی لیے کرایا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بارہ لاکھ روپے ملنے کے باوجود ترقیاتی کام کیوں نہیں کیے گئے، روڈ کٹنگ کے پیسے لے کر سڑکیں بحال نہ کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، عوام کو بتایا جائے کہ اربوں روپے کب خرچ کیے جائیں گے، صرف فیتے کاٹنے اور پریس کانفرنس کرنے سے شہر نہیں چلتا، جماعت اسلامی پراپرٹی ٹیکس اور ایڈورٹائزمنٹ ٹیکس کا حساب دے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارتھ ناظم آباد بلاک ایف میں اندرونی سڑکوں کی مرمت، برساتی نالوں کی بحالی اور دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح کرنے کے موقع پر کیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے منشور کے مطابق کراچی کے عوام کی خدمت ہمارا بنیادی مقصد ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شہر میں عملی کام نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹاؤن بنانے کا مقصد یہی تھا کہ نچلی سطح پر عوامی نمائندے گلی محلوں کے مسائل حل کریں، مگر بدقسمتی سے بعض جماعتیں صرف دھرنوں، پریس کانفرنسوں اور سیاست چمکانے تک محدود رہیں، ہم تختیاں لگانے نہیں بلکہ شروع کیے گئے منصوبوں کی تکمیل کے موقع پر یہاں آئے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس علاقے میں دس کروڑ روپے کی لاگت سے اندرونی گلیاں تعمیر کیں، سوا دو لاکھ اسکوائر فٹ پیور بلاکس بچھائے اور سیوریج کے درہم برہم نظام کو درست کیا، مکینوں سے وعدہ لیا گیا کہ پیور لگنے کے بعد دوبارہ روڈ کٹنگ نہیں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میئر کراچی نے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔