پانچ سو روپے ماہانہ کمانے والے کپل شرما اب کتنی دولت کے مالک ہیں؟، جان کر دنگ رہ جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
مشہور انڈین کامیڈین اور اداکار کپل شرما ان دنوں دو وجوہات کی بنا پر خبروں میں ہیں۔
ایک جانب ان کی فلم ’کس کس کو پیار کروں ٹو‘ 12 دسمبر کو ریلیز ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف اداکارہ پریانکا چوپڑا نے ممبئی میں ’دی گریٹ انڈین کپل شو‘ سیزن فور کی ایک قسط میں خصوصی شرکت کی ہے جو خاصی مقبول ہو رہی ہے۔
شو کی مقبولیت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب نوجوت سنگھ سدھو نے بیک اسٹیج تصاویر شیئر کیں جن میں پریانکا چوپڑا کو کپل شرما، ارچنا پورن سنگھ اور سنیل گروور کے ساتھ دیکھا گیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق کپل شرما محض ایک کامیڈین ہی نہیں بلکہ بھارت کے کامیاب ترین انٹرٹینرز میں شمار ہوتے ہیں۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے کپل شرما نے سخت حالات میں جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی اور آج ان کی مجموعی دولت تقریباً 300 کروڑ انڈین روپے بتائی جاتی ہے۔
والد کے انتقال کے بعد کپل شرما نے کم عمری میں ذمہ داریاں سنبھالیں اور پی سی او اور ٹیکسٹائل مل میں معمولی نوکریاں کیں۔
ان کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا جب انہوں نے ’دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج‘ جیتا، جس کے بعد ’کامیڈی سرکس‘ اور ’کامیڈی نائٹس ود کپل‘ نے انہیں گھر گھر مشہور کر دیا۔
بعد ازاں نیٹ فلکس پر ’دی گریٹ انڈین کپل شو‘ کے ذریعے انہوں نے نئی کامیابی حاصل کی، جہاں رپورٹس کے مطابق وہ فی قسط پانچ کروڑ روپے تک کماتے ہیں۔
کپل شرما ممبئی میں رہائش پذیر ہیں، ان کے پاس قیمتی جائیدادیں، لگژری گاڑیاں اور کینیڈا میں کیفے بزنس بھی موجود ہے، جو ان کی کامیابی کی واضح مثال ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کپل شرما
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔