کراچی، ایڈوائزر گورنر خیبرپختونخوا کی اسلحے کے زور پر چھینی گئی گاڑی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اے وی ایل سی پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ BRA-996 نصب تھی، جبکہ گاڑی کا اصل رجسٹریشن نمبر BKP-342 ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) پولیس نے گورنر خیبرپختونخوا کے میڈیا ایڈوائزر سے اسلحے کے زور پر چھینی گئی گاڑی برآمدکرلی۔ پولیس کے مطابق اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنیکی اور خفیہ ذرائع کی مدد سے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ گاڑی برآمد کرلی۔ اے وی ایل سی پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ BRA-996 نصب تھی، جبکہ گاڑی کا اصل رجسٹریشن نمبر BKP-342 ہے۔ ایس ایس پی امجد شیخ نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے واردات میں ملوث ملزمان کی شناخت سجاد لاشاری، عمران سرائیکی، عبید پنجابی اور شہزاد لاشاری کے ناموں سے کر لی گئی۔
ایس ایس پی امجد شیخ نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جن کی گرفتاری جلد متوقع ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ برآمد شدہ گاڑی قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میڈیا ایڈوائزر گورنر خیبر پختونخواہ علی ایوب کے حوالے کر دی گئی۔ یاد رہے کہ 22 اکتوبر کو کراچی کے ایف بی صنعتی ایریا تھانے کی حدود طاہر ولا چورنگی کے قریب گورنر خیبرپختونخوا کے میڈیا ایڈوائزر علی ایوب کی گاڑی نامعلوم مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر چھین لی تھی اور فرار ہو گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ پولیس نے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک