بھارت میں غیر ملکی ماڈل کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بینگلورو: بھارتی ریاست کرناٹکا کے شہر بینگلورو میں ایک برازیلین ماڈل خاتون کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہے جس نے مقامی پولیس اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 17 اکتوبر کو اس وقت پیش آیا جب خاتون ایک مقامی ہوٹل میں مقیم تھی اور ایک آن لائن فوڈ ایپ سے کھانا آرڈر کرنے کے بعد ڈلیوری لینے پہنچی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ کھانے کی ڈلیوری کے لیے آنے والے نوجوان نے انہیں نامناسب انداز میں چھوا اور بدتمیزی کی۔ خاتون نے فوری طور پر ہوٹل انتظامیہ کو آگاہ کیا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈپٹی کمشنر پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کی شناخت کمار راؤ کے نام سے ہوئی ہے جو ایک مقامی کالج کا طالب علم ہے اور پارٹ ٹائم ڈلیوری ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ پولیس نے درخواست موصول ہونے کے فوراً بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو اسی دن گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم سے تفتیش جاری ہے اور اس کے خلاف جنسی ہراسانی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد شہری حلقوں اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن کمپنیوں کو اپنے ملازمین کی سخت نگرانی کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکی خواتین کے ساتھ ہراسانی کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے بعد بین الاقوامی سیاحتی حلقوں میں ملک کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک