data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-01-12

 

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ ملکی معیشت نے سیلاب سے پیدا ہونے والی مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود بحالی کے اپنے سفر کو برقرار رکھا ہے، اکتوبر 2025 میں افراط زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کاامکان ہے۔یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں بہتری آرہی ہے، بڑی صنعتوں بالخصوص سیمنٹ، آٹو موبائل اور دیگرمتعلقہ شعبوں نے بحالی کے عمل کو سہارا دیا ہے جبکہ برآمدات اور ترسیلات زر میں بھی بتدریج بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق بیرونی شعبہ مستحکم ہے اور ستمبر 2025 میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن فاضل ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مضبوط ترسیلات زر کی آمد ہے۔ افراط زر اگرچہ وقتی طور پر غذائی اشیا کی فراہمی میں دبائو کے باعث متاثر ہوئی ہے لیکن توقع ہے کہ یہ مقررہ ہدف کے اندر ہی رہے گی۔رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی سہولت کے تحت کامیاب جائزے نے پاکستان میں اصلاحات کے سمت اور دانشمندانہ معاشی نظم و نسق پر اعتماد کو مزید تقویت دی ہے، کریڈٹ ریٹنگ کی تین عالمی اداروں فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیزکی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری سے معاشی سمت اورپالیسیوں پربین الاقوامی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔رپورٹ کے مطابق نجکاری کے عمل، ڈیجیٹل گورننس اور سی پیک فیز 2.

0 کے مشترکہ منصوبوں میں مسلسل پیش رفت حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ مالی نظم و ضبط، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور پائیدار و شمولیتی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سرحدوں کی وقتی بندش نے چند بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر دبائو ڈالا ہے تاہم توقع ہے کہ اکتوبر 2025 میں افراط زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہے گی۔

خبر ایجنسی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق افراط زر

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے