معاشی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے، بلال اظہر کیانی WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وزیرمملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ مجموعی قومی پیداوارمیں معتدل نمو اور مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے، جاری مالی سال کے دوران حاصل شدہ معاشی استحکام کو پائیدار بنیادوں پر آگے لے کر جائیں گے۔قومی معیشت سے متعلق امور پرپریس بریفنگ کے دوران وزیرمملکت نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں کلی معیشت کے استحکام کا سفر کامیابی سے آگے بڑھا ہے، مہنگائی کی شرح میں نمایاں آئی ہے، پرائمری بیلنس کا ہدف حاصل کیا گیا ہے، جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوا، گزشتہ سال مہنگائی کی 23فیصد کی شرح رواں سال کم ہوکر ساڑھے 4فیصد ہوگئی ہے، 14برس میں پہلی مرتبہ حسابات جاریہ کے کھاتوں کا توازن فاضل ہوا ہے، اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، پالیسی ریٹ 22فیصد سے کم ہوکر11فیصد کی سطح پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بار بار کہا گیا کہ منی بجٹ آئے گا مگر حکومت نے پرائمری بیلنس کے اہداف بھی پورے کئے اور کوئی منی بجٹ بھی نہیں آیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ جاری مالی سال کے دوران حاصل شدہ معاشی استحکام کو پائیدار بنیادوں پر آگے لے کر جائیں گے، حکومت نجی شعبہ کی قیادت میں برآمدات پرمبنی نمو کیلئے کوشاں ہے، معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، ہماری یہ کوشش ہے کہ ماضی میں معیشت کے عروج وزوال کے چکر کو برآمدات پرمبنی پائیدار ترقی و نمو میں تبدیل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ توانائی سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اس کے نتیجہ میں بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، نجکاری کا عمل بھی آگے بڑھ رہا ہے، فرسٹ ویمن بنک کی کامیاب نجکاری ہوچکی ہے ، اگلے ماہ پی آئی اے کی نجکاری میں پیشرفت ہوگی۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایف بی آر اور ٹیکسو ں کے شعبہ میں اصلاحات کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں ، انفورسمنٹ کی مد میں ٹیکس محصولا ت میں اضافہ کو آئی ایم ایف نے بھی تسلیم کیا ہے، مجموعی قومی پیداوارمیں معتدل نمو اور مہنگائی کی کمی شرح کے باوجود حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے،ٹیکس محصولات میں 26فیصداضافہ ہوا۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ وزیراعظم ملکی معیشت میں نجی شعبہ کی فعال اورمتحرک شمولیت و کلیدی کردار پر یقین رکھتے ہیں ، گزشتہ جمعرات کو وزیراعظم نے نجی شعبہ کے کلیدی شراکت داروں کے ساتھ تین گھنٹے تک اہم مشاورتی ملاقات کی ، وزیراعظم نے تمام شراکت داروں کی آرااور تجاویز کو سنا اور تاجروں و سرمایہ کاروں سے کہا کہ معیشت کو آگے لے جانا ہمارا اجتماعی ہدف ہے، یہ مشاورت اوربات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی ۔اس کے نتیجہ میں مختلف گروپس بنائے گئے جن کی قیادت نجی شعبہ کے کلیدی شراکت دار کریں گے جبکہ متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی اس میں شامل ہوں گے،یہ تمام گروپس 15نومبر تک اپنی سفارشات اور تجاویزمرتب کرکے پیش کریں گے اور اسی کے مطابق پالیسی سازی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام میں ہونے کے باوجود اگر عوام اور مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے تو فراہم کیا جائے اور اس کے لئے راستے نکالے جائیں، وزیراعظم نے وزرا کو بھی نجی شعبہ کے ساتھ روابط استوار کرنے کی ہدایت کی ہے ، اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے ہم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل میں نجی شعبے اور تمام چیمبرز کے نمائندوں سے ملاقات کی اور ان سے مشاورت کی ، مشاورت کا ہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔نجکاری کے پروگرام پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ اختلاف کے سوال پر وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی حکومت کی اتحادی جماعت ہے، قائمہ کمیٹیوں اور دیگر فورمز پر بھی ہماری بات چیت ہوتی رہتی ہے، پیپلزپارٹی کے تمام تحفظات کا ازالہ کیا جاتا ہے اور ان کے سوالوں کے جوابات بھی دیئے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نجکاری کا عمل آگے بڑھاناضروری ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خسارے میں چلنے والے ادارے حکومت پرمالی بوجھ نہ بنیں بلکہ اس کی بجائے عوام و خدمات میں بہتری لائی جائے اور مالی طور پر منافع بخش ہونے کی صورت میں یہ ادارے ٹیکسوں میں اضافے کا باعث بھی بن جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دسمبر2028 تک کراچی سے روہڑی تک ایم ایل ون اور روہڑی سے نوکنڈی تک کے سیکشن کو مکمل کیا جائیگا، کراچی سے روہڑی تک کے سیکشن کیلئے ایشیائی ترقیاتی بنک کے ساتھ دو ارب ڈالر کی مالی معاونت پر بات چیت چل رہی ہے جبکہ روہڑی سے نوکنڈی تک کے سیکشن کیلئے ریکوڈک مائننگ کمپنی سے بات چیت ہورہی ہے ۔وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ٹیرف کمیشن کے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اپنی سفارشات براہِ راست وزیراعظم کو پیش کر رہی ہے،کمیٹی کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے موثر اور پائیدار سفارشات تیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی معیشت میں استحکام، برآمدات میں اضافہ اور دیگر معاشی چیلنجز کے حل کے لیے بھی عملی تجاویز مرتب کر رہی ہے۔وزیرِ مملکت نے بتایا کہ کمیٹی کی ورکنگ تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ جلد اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گیجو معیشت کی مضبوطی اور پائیداری میں اہم کردار ادا کریں گے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ معیشت میں مثبت تبدیلیوں کے باعث اب واضح بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیاحت کو فروغ دینے کیلئے حکومت پنجاب کا اتھارٹی تشکیل دینے کا فیصلہ سیاحت کو فروغ دینے کیلئے حکومت پنجاب کا اتھارٹی تشکیل دینے کا فیصلہ مریم نواز کا پنجاب کے 65ہزار مساجد کے آئمہ کرام کیلئے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ پیپلز پارٹی کے ایم این اے ذوالفقار علی کے گھر ڈکیتی، ڈاکو اہلخانہ کو یرغمال بناکر گھر کا صفایا کرگئے کے الیکٹرک سے متعلق نیپرا کا فیصلہ کراچی کے صارفین کے مفاد میں ہے، پاور ڈویژن علیمہ خان کے مسلسل عدم پیشی پر پانچویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری گورنر خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو خط ،گندم کی نقل و حرکت پر پابندی پر مداخلت کی درخواست TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مملکت نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کو ریلیف فراہم میں اضافہ ہوا مہنگائی کی کے دوران کا فیصلہ کے ساتھ کی شرح کا عمل

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ