علیمہ خان کے پانچویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایک مرتبہ پھر علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کردیے، یہ اس نوعیت کے وارنٹس کا پانچواں موقع ہے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے کی سماعت کی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق علیمہ خان ایک بار پھر پیش نہیں ہوئیں حالانکہ ان کے خلاف پہلے ہی ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے جا چکے تھے۔
سماعت کے دوران مقدمے میں نامزد 10 دیگر ملزمان عدالت میں موجود تھے جبکہ استغاثہ کے 5 گواہان نے بھی حاضری دی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم علیمہ خان کی جانب سے کوئی وکیل یا نمائندہ پیش نہ ہونے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ایک مرتبہ پھر ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو وارنٹس پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ عدالت پہلے ہی علیمہ خان کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم جاری کر چکی ہے، جبکہ نادرا، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور اسٹیٹ بینک سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ضمانت وارنٹ علیمہ خان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔