کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری گندم کا اسکینڈل: استغاثہ کے ایک گواہ کا بیان قلمبند، مزید 5 گواہان طلب
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اینٹی کرپشن کورٹ خیبر پختونخوا میں کروڑوں روپے سرکاری گندم اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی، سماعت اینٹی کرپشن کورٹ خیبر پختونخوا کے جج آصف رشید نے کی۔
دوران سماعت استغاثہ کے ایک گواہ کا بیان قلمبند کرلیا گیا، عدالت نے مزید پانچ گواہان طلب کرلیے۔
عدالت نے گندم کیس کی مزید سماعت 4 نومبر تک ملتوی کردی، پراسیکوشن نے کہا کہ گندم اسکینڈل میں نامزد پانچ ملزمان پر فرد جرم عائد ہے، ملزمان محمد ارشد ، محمد خالد ، قاضی جنید ، طلاءمحمد اور محمدعا طف شامل ہیں ، ملزم عثمان عابد شاہ تاحال روپوش ہیں۔
پراسیکوشن نے کہا کہ ملزمان نے اضاخیل نوشہرہ کے گندم اسٹوریج گودام میں ملازم تھے، ملزمان نے ملی بھگت سے 1700 ٹن گندم غائب کی ہے، ملزمان نے 3300 تک گندم کی بوریاں غائب کی ہیں۔ ملزمان نے قومی خزانے کو 19 کروڑ 60 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔
پراسیکیوشن نے کہا کہ ملزمان کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ٹرائل شروع کیا گیا ہے، عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت چار نومبر تک ملتوی کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔