خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے ایم ڈی کیٹ 2025 کے نتائج جاری کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے ایم ڈی کیٹ 2025 کے نتائج جاری کر دیے ہیں۔ تنائج کے مطابق خیبرپختونخوا میں صرف 53 فیصد امیدوار ایم بی بی ایس کے لیے کوالیفائی کر سکے ہیں۔ کے ایم یو انتظامیہ نے بتایا کہ 58 فیصد امیدواروں نے بی ڈی ایس کے لیے کوالیفائی کیا جبکہ صوبے بھر سے صرف 2 فیصد امیدوار 170 سے زیادہ نمبر لے سکے۔ مزید برآں 9 فیصد امیدواروں نے 160 سے 170 کے درمیان نمبر حاصل کیے۔ 31 فیصد امیدوار 90 سے کم نمبر حاصل کرکے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے اہل نہ ہو سکے۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ 1539 امیدوار امتحان میں شریک ہی نہیں ہوئے جبکہ خیبرپختونخوا بھر سے 39 ہزار 986 امیدواروں نے ایم ڈی کیٹ 2025 کے لیے ریجسٹریشن کرائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔