بنگلہ دیشی کرکٹر پر شادی کا جھانسہ دے کر جنسی زیادتی کا سنگین الزام، چارج شیٹ جمع
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش اے ٹیم کے 25 سالہ کرکٹر طفیل احمد ریحان کے خلاف پولیس نے چارج شیٹ جمع کر دی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک خاتون کو شادی کا وعدہ دے کر فریب دیا اور بارہا جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
سب انسپکٹر محمد سمیع الاسلام نے بتایا کہ چارج شیٹ انسدادِ خواتین و اطفال تشدد ایکٹ کی دفعہ 9(1) کے تحت جمع کرائی گئی ہے۔ مقدمے کے مطابق طفیل نے جنوری میں فیس بک کے ذریعے خاتون سے رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے شادی کا وعدہ کیا جس پر خاتون نے ان سے تعلق جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون کرکٹر نے منگیتر سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، پروپوزل ویڈیو سمیت تمام تصاویر ڈیلیٹ کردیں
خاتون کا کہنا ہے کہ 31 جنوری کو طفیل نے انہیں گلشن کے ایک ہوٹل میں اپنی بیوی کے طور پر متعارف کرایا اور جنسی زیادتی کی۔ اسی طرح کئی بار ایسے واقعات پیش آئے اور بعد میں طفیل نے شادی سے انکار کر دیا۔ خاتون نے 1 اگست کو گلشن تھانے میں شکایت درج کرائی۔
تحقیقات کاروں کے مطابق خاتون کا بیان، ہوٹل کی بکنگ ریکارڈ، طبی شواہد اور دیگر مواد ان کے دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ عدالت 30 دسمبر کی اگلی سماعت میں چارج شیٹ کا جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹر عبدالرزاق اور بھارتی اداکارہ تمنا بھاٹیا کی دوستی کی خبریں، اصل معاملہ کیا ہے؟
24 ستمبر کو ہائی کورٹ نے طفیل کو 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت دی تھی اور ہدایت کی تھی کہ ضمانت کی مدت ختم ہونے پر وہ خواتین و اطفال تشدد روک تھام ٹربیونل میں پیش ہوں۔ پولیس کے مطابق وہ اس ہدایت پر عمل نہیں کر سکے اور اس دوران ہانگ کانگ میں کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے گئے۔
عدالت اب مقدمے کی اگلی کارروائی کے لیے چارج شیٹ کا جائزہ لے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیشی کرکٹ بنگلہ دیشی کرکٹر جنسی زیادتی شادی کا جھانسہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیشی کرکٹ بنگلہ دیشی کرکٹر جنسی زیادتی شادی کا جھانسہ جنسی زیادتی چارج شیٹ شادی کا
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔