ملک میں صنعتی اور زرعی ترقی کے فروغ کی جانب اہم قدم، بجلی کے رعایتی نرخ منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ملک میں صنعتی اور زرعی ترقی کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت نے اہم اقدام اٹھایا ہے۔ حکومت کی سفارش پر نیپرا نے اضافی بجلی کی کھپت پر رعایتی نرخ منظور کردیے ہیں اور یہ فیصلہ وفاقی حکومت کو موصول ہوگیا ہے۔
رعایتی نرخ اور اثراتنیپرا کے مطابق صنعتوں اور زرعی شعبے کے اضافی بجلی یونٹس پر فی یونٹ چارج 22 روپے 98 پیسے ہوگا۔ اس فیصلے کا خیرمقدم پاور ڈویژن نے کیا ہے اور نوٹیفکیشن کے اجرا کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیپرا نے عوام پر بجلی گرا دی، فی یونٹ قیمت میں اضافہ
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاکہ صنعتی پیکج سے ملک میں صنعتی اور زرعی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ 3 سالہ پیکج انڈسٹریل سیکٹر کو مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کے مواقع فراہم کرے گا۔
صنعت اور زراعت کو مراعاتوزیر توانائی نے کہاکہ صنعتی اور زرعی شعبے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس لیے صنعتی شعبے کے اضافی یونٹس کی قیمت 34 روپے سے کم کر کے 22 روپے 98 پیسے اور زرعی شعبے کے اضافی یونٹس کی قیمت 38 روپے سے کم کر کے 22 روپے 98 پیسے کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے صارفین کی اوسط بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر زراعت میں پہلے 100 یونٹ استعمال کیے جاتے تھے تو اب اضافی 100 یونٹ استعمال کرنے پر اوسط قیمت میں 7 روپے فی یونٹ کمی ہوگی۔ صنعت میں اگر ہزار یونٹ استعمال کیے جاتے تھے تو اضافی ہزار یونٹ پر اوسط قیمت میں تقریباً 5 روپے فی یونٹ کمی ہو گی۔
مزید پڑھیں: صنعت اور زراعت کے لیے بجلی سستی، اویس لغاری نے خوشخبری سنادی
فوائد اور مستقبلاوئیس لغاری نے کہاکہ اس اقدام سے صنعت کو مزید فروغ ملے گا اور عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے ہوں گے۔ ڈیٹا سینٹرز، کرپٹو مائننگ آپریشنز اور گرین فیلڈ انڈسٹریز بھی اس پیکج سے مستفید ہوں گی۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ نوٹیفکیشن کے بعد پیکج کا اطلاق ہوگا، اور یہ سہولت گزشتہ سال کی کھپت سے زیادہ استعمال پر فراہم کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اویس لغاری بجلی کے رعایتی نرخ زرعی ترقی صنعتی ترقی وزیر توانائی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اویس لغاری بجلی کے رعایتی نرخ صنعتی ترقی وزیر توانائی وی نیوز صنعتی اور زرعی رعایتی نرخ فی یونٹ کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :