امریکی شخص کی ماں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی، چیٹ جی پی ٹی ذمہ دار قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
امریکا میں اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف دائر کیے گئے ایک مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ایک شخص کے وہم اور شکوک کو بڑھاوا دیا، جس کے نتیجے میں اس نے اپنی 83 سالہ والدہ کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔
غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق 56 سالہ اسٹین ایرک سولبرگ نے اگست 2024ء میں اپنی والدہ سوزین ایڈمز کو تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا اور بعد میں خود کو چاقو مار کر اپنی جان لے لی۔
مقتولہ سوزین ایڈمز کے خاندان نے کیلیفورنیا کی عدالت میں دائر درخواست میں بتایا کہ سولبرگ کئی ماہ تک چیٹ جی پی ٹی سے مسلسل بات چیت کرتا رہا اور یہ گفتگو اس کے بگڑتے ہوئے ذہنی توازن کو مزید خراب کرتی گئی۔
درخواست کے مطابق چیٹ جی پی ٹی نے ناصرف اس کے وہم کی تصدیق کی بلکہ اِس کے شک و شبہات کو بھی مزید تقویت دی۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے سولبرگ کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ اس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اس کی والدہ کے گھر میں موجود اشیاء اس کی نگرانی کے آلات ہیں، حتیٰ کہ جب اس نے اپنی والدہ پر زہر دینے کا الزام لگایا تو چیٹ جی پی ٹی نے اس خدشے کی تردید کرنے کے بجائے اس کی تائید کردی۔
درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ اوپن اے آئی نے 2024ء میں اپنا ماڈل جی پی ٹی-4 او حفاظتی خدشات کے باوجود جلدبازی میں جاری کیا اور کمپنی کے اندر موجود کچھ ماہرین کی مخالفت کرنے کے باوجود بھی حفاظتی جانچ کم وقت میں مکمل کی گئی۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے اس ماڈل کو حد سے زیادہ ’تابع مزاج‘ رویے کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہ چکا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا میں دائر کیا گیا یہ مقدمہ ان متعدد کیسز میں تازہ ترین نیا شمار ہے جن میں دعویٰ کیا جا چکا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے مختلف صارفین کو خودکشی پر مائل کیا یا ان کے ذہنی اضطراب کو بڑھایا۔
ان کیسز میں کم عمر نوجوانوں اور بڑوں کی اموات بھی شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے خود نقصان پہنچانے کے طریقوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرنے کے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔