رنگوں کی ماہر کمپنی پنٹون نے سال 2026 کے لیے ہلکے سے سفید رنگ کو اپنا نیا کلر چن لیا ہے جس کا نام ہے ’کلاوؤڈ ڈنسر رکھا ہے۔ تاہم اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے سخت تنقید شروع کر دی ہے۔

امریکی کمپنی پنٹون کا کہنا ہے کہ یہ رنگ آج کے بے چین اور مصروف دور میں سکون اور سادگی کی علامت ہے۔

کمپنی کی ڈائریکٹر لیٹریس آئزمین نے کہا کہ یہ رنگ ذہن کو پرسکون بناتا ہے اور غیر ضروری چیزوں سے توجہ ہٹاتا ہے۔

لوگ کیوں ناراض ہوئے؟

بہت سے ڈیزائنرز اور صارفین نے اعتراض کیا ہے کہ اس وقت کے سیاسی اور سماجی ماحول میں سفید رنگ کا انتخاب مناسب نہیں۔

ان کے مطابق امریکا سمیت دنیا بھر میں نسل پرستی اور سفید فام برتری جیسی بحثیں زور پر ہیں ایسے میں سفید رنگ کو سال کا رنگ بنانا لوگو کو غلط پیغام دے سکتا ہے۔

کچھ تبصرے یہ تھے۔ ’ڈیزائن ہمیشہ سے سیاسی ہوتا ہے، رنگوں کا انتخاب بھی پیغام دیتا ہے‘۔ ’اس ماحول میں سفید رنگ چننا واقعی سوچنے والی بات ہے‘۔

ایک ڈیزائنر نے کہا کہ اب جب کہ سفید فام برتری سے متعلق بحثیں بڑھ رہی ہیں ایسے میں سفید رنگ کو سال کا رنگ بنانا بے حس فیصلہ ہے۔

پنٹون کا جواب

تنقید بڑھنے پر پنٹون کی نائب صدر لوری پریس مین نے وضاحت کی ہے کہ اس رنگ کا کسی بھی طرح سے جلد کے رنگ یا نسل سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی ہر سال ایسا رنگ منتخب کرتی ہے جو معاشرتی رجحانات یا عام جذبات کی نمائندگی کرتا ہو نہ کہ سیاسی موقف ہو۔

پنٹون کا کلر آف دی ایئر کیا ہے؟

پنٹون ہر سال دنیا میں جاری سماجی رجحانات، فیشن، ڈیزائن، ٹیکنالوجی، لائف اسٹائل، فلمیں، آرٹ اور عالمی ماحول کا جائزہ لینے کے بعد ایک ایسا رنگ منتخب کرتا ہے جو اس سال کے مجموعی ’موڈ یا جذبات کی نمائندگی کرے۔ یہ رنگ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ آنے والے سال میں لوگ کن چیزوں سے متاثر ہوں گے کس طرح کی سوچ بڑھ رہی ہے اور ڈیزائن کی دنیا میں کیا ٹرینڈ سامنے آ سکتا ہے۔

یہ رنگ کیسے چنا جاتا ہے؟

پنٹون کے ماہرین سال بھر مختلف ممالک کا دورہ کرتے ہیں، نمائشیں، فیشن ایونٹس، ٹیکنالوجی میلے اور سماجی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ پھر وہ ان تمام مشاہدات کی بنیاد پر ایک ایسا رنگ منتخب کرتے ہیں جو آنے والے سال کی نفسیاتی، جذباتی اور تخلیقی سمت کو ظاہر کرتا ہو۔

یہ کوئی سرکاری فیصلہ نہیں ہوتابلکہ ڈیزائن اور مارکیٹنگ انڈسٹری کے لیے ایک ٹرینڈ گائیڈ سمجھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی کمپنی پنٹون پنٹون سفید رنگ کلر آف دی ایئر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی کمپنی پنٹون پنٹون سفید رنگ کلر ا ف دی ایئر میں سفید رنگ کمپنی پنٹون یہ رنگ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال