ایس آئی ایف سی مراعات تجویز نہیں کریگی، آئی ایم ایف نے حکومت کو نئے اسپیشل اکنامک زون بنانے سے بھی روک دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:(آئی پی ایس) پاکستان نے قرض پروگرام کیلئے توانائی، مالیاتی، سماجی شعبے، اسٹرکچرل، مانیٹری اور کرنسی سے متعلق آئی ایم ایف کی 23شرائط مان لیں۔

پاکستان نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ ترقیاتی اسکیموں میں کمی لائی جائے گی، ان شرائط میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافہ کرنا، اعلیٰ قیمت والی میٹھی اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی متعارف کرانا اور منتخب اشیاء کو معیاری شرح پر منتقل کر کے سیلز ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ریگولیشن سے آزاد کر دے گی، بجلی کے شعبے میں ٹیرف ایڈجسٹمنٹ جاری رکھے گی، سسٹم کے نقصانات کو کم کرے گی اور لاگت میں کٹوتی کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق 40 ہزار بڑے خوردہ فروشوں کے لیے ملک گیر پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کی تنصیب اگلے دو سالوں میں مکمل ہو جائے گی، جبکہ چاروں صوبے ہم آہنگ سیلز ٹیکس طریقہ کار کی طرف بڑھیں گے۔

آئی ایم ایف کی پاکستان سےمتعلق جاری رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبے میں تمام صوبوں نے بجلی اور گیس پر کوئی نئی سبسڈی نہ دینے سے اتفاق کیا ، نئے آر آیل این جی کےلیے اضافی بیرونی معاہدے کرنے سے بھی روک دیا ، اوگراکو 40روز کے اندر ٹیرف کے تعین کی ایڈوائس دی جائے گی جس کا نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا۔

کسی بھی سرمایہ کاری کے پروجیکٹ یا کمپنی کوہر قسم کی مالی مراعات یا گارنٹی کی پیشکش سے بھی روک دیاگیا، کوئی بھی ایندھن پر فیول سبسڈی نہیں دی جائے گی یا کسی بھی کراس سبسڈی سکیم کا اجرا نہیں کیاجائے گا،کسی قسم کے سیکٹورل قرضوں کی فراہمی کے اہداف یا قرضوں کو مختص کرنے کے فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔

اسٹیٹ بینک سے حکومتی سکیورٹیز کے خاتمے پر مزید توسیع یا مارکیٹ خریداری کو بھی ختم کردیاگیا ہے، قرض پروگرام کے دوران اسٹیٹ بینک کوئی نئی قرضے کی اسکیم متعارف نہیں کرائے گا، کرنسی کی قدر کو لچکدار رکھاجائے گا۔

گندم کی خریداری کے عملد کےلیے وفاقی یا صوبائی امدادی قیمت مقرر کرنے، درآمد ات پر کسی قسم کی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی متعارف کرانے سے بھی روک دیاگیا ہے، ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری کےلیے کسی قسم کی مراعات تجویز کرےگی اور نہ ہی حکومت ٹیکس مراعات یا گارنٹی فراہم کرے گی اور ایس آئی ایف سی کے تحت آنیوالی تمام سرمایہ کاری سٹنڈرڈ پبلک انوسٹمنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت ہونے کو یقینی بنایاجائے۔

آئی ایم ایف نے نئے اسپیشل اکنامک زونز بنانے یا دیگر زون بنانے اور ان زون کو کسی قسم کی مراعات دینے اور موجودہ مراعات کی تجدید سے بھی روک دیا ۔

ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے خسارے اور فنڈ کے زیرِ کفالت پروگرام کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس خسارے کا 3.

3 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھونے کے درمیان، پاکستان نے کھاد، کیڑے مار ادویات، اور میٹھی اشیاء پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے ساتھ ساتھ منتخب اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح کو معیاری 18 فیصد تک بڑھانے پر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کر لیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد میں شمولیت ممکن ہے، بنگلہ دیش بھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد میں شمولیت ممکن ہے، بنگلہ دیش آج کی سزا کے بعد ثاقب نثار ہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملیگی، طلال چوہدری وزیر اعلی پنجاب کا مرکزی بازاروں اور سڑکوں کے درمیان خوبصورت گرین بیلٹس بنانے کا حکم پاکستان نے عدالتی سماعت میں شرکت پر ناروے کے سفیرکو دفتر خارجہ طلب کرلیا بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید اپنے دور کے فرعون تھے: بلاول بھٹو زرداری ریڈ لائن کراس کرنے والے شخص کو آج سزا ہوئی،قانون سب کیلئے برابر ہے، عطا تارڑ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی سے بھی روک دیا ا ئی ایم ایف پاکستان نے جائے گی کے ساتھ قسم کی

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم