انیل امبانی کا بیٹا 228 کروڑ کے بینک فراڈ کیس میں ملوث، سی بی آئی کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
بھارت کی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے معروف صنعتکار انیل امبانی کے بیٹے جے انمول امبانی کے خلاف 228.06 کروڑ روپے کے مبینہ بینک فراڈ کیس میں فوجداری مقدمہ درج کر لیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امبانی خاندان کے کسی رکن کے خلاف اس نوعیت کا مجرمانہ کیس سامنے آیا ہے۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق، یہ مقدمہ رِلائنس ہاؤسنگ فنانس لمیٹڈ (RHFL) سے منسلک مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔ کیس میں کمپنی کے سابق سی ای او اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر رویندرا سدھالکر سمیت نامعلوم افراد اور نامعلوم سرکاری افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے انیل امبانی کے قریبی ساتھی آشوک کمار پال کی گرفتاری کی وجہ کیا بنی؟
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے دھوکا دہی، مجرمانہ سازش اور مجرمانہ بدعنوانی کے ذریعے بینک کو 228 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔ تحریری شکایت کے مطابق جے انمول امبانی، سدھالکر اور دیگر افراد قرضوں کے اجرا اور ادائیگی میں بے قاعدگیوں کے مرتکب ہوئے، جس سے متعلقہ بینک کو بھاری مالی خسارہ ہوا۔
تحقیقات کا دائرہ بڑھنے کا امکانسی بی آئی RHFL کی قرض اسکیموں، ریکارڈز، داخلی دستاویزات اور بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ حکام کے مطابق کمپنی کے دیگر عہدیداروں اور بینک ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امبانی گروپ کی 85 کروڑ ڈالر مالیت کی جائیدادیں منجمد
تاحال انیل امبانی گروپ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انیل امبانی بھارت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انیل امبانی بھارت انیل امبانی
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔