بھارت کی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے معروف صنعتکار انیل امبانی کے بیٹے جے انمول امبانی کے خلاف 228.06 کروڑ روپے کے مبینہ بینک فراڈ کیس میں فوجداری مقدمہ درج کر لیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امبانی خاندان کے کسی رکن کے خلاف اس نوعیت کا مجرمانہ کیس سامنے آیا ہے۔

سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق، یہ مقدمہ رِلائنس ہاؤسنگ فنانس لمیٹڈ (RHFL) سے منسلک مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔ کیس میں کمپنی کے سابق سی ای او اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر رویندرا سدھالکر سمیت نامعلوم افراد اور نامعلوم سرکاری افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے انیل امبانی کے قریبی ساتھی آشوک کمار پال کی گرفتاری کی وجہ کیا بنی؟

شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے دھوکا دہی، مجرمانہ سازش اور مجرمانہ بدعنوانی کے ذریعے بینک کو 228 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔ تحریری شکایت کے مطابق جے انمول امبانی، سدھالکر اور دیگر افراد قرضوں کے اجرا اور ادائیگی میں بے قاعدگیوں کے مرتکب ہوئے، جس سے متعلقہ بینک کو بھاری مالی خسارہ ہوا۔

تحقیقات کا دائرہ بڑھنے کا امکان

سی بی آئی RHFL کی قرض اسکیموں، ریکارڈز، داخلی دستاویزات اور بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ حکام کے مطابق کمپنی کے دیگر عہدیداروں اور بینک ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے امبانی گروپ کی 85 کروڑ ڈالر مالیت کی جائیدادیں منجمد

تاحال انیل امبانی گروپ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انیل امبانی بھارت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انیل امبانی بھارت انیل امبانی

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز