سندھ اور بلوچستان میں صبح 5 تا رات 10 بجے تک گیس فراہمی کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ اور بلوچستان میں موسمِ سرما کے دوران گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
سوئی سدرن کے مطابق ڈی جی گیس نے دونوں صوبوں میں صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی مسلسل فراہمی کی ہدایات جاری کی ہیں، تاکہ سرد موسم میں گھریلو صارفین کو بنیادی ضرورت کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کم پریشر والے علاقوں کی نشاندہی روزانہ کی بنیاد پر صبح کی بریفنگ میں کی جائے گی اور متعلقہ ٹیموں کو فوری اقدامات کی ہدایت دی جائے گی تاکہ پریشر میں کمی کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو سکے۔
ترجمان کے مطابق گیس پریشر کی بہتری میں غفلت یا تاخیر کی صورت میں متعلقہ زونل ہیڈ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سوئی سدرن کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت اور نظام کی بہتری اولین ترجیح ہے، اور سردیوں میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر ٹیمیں فیلڈ میں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔