عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر انکی بہنوں اور کارکنوں کا اڈیالہ روڈ پر علامتی دھرنا، پولیس سے تلخ کلامی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر انکی بہنوں اور کارکنوں کا اڈیالہ روڈ پر علامتی دھرنا، پولیس سے تلخ کلامی WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس )بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر ان کی بہنوں اور کارکنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دے دیا، روکے جانے پر سلمان اکرم راجا کی پولیس سے تلخ کلامی ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق دھرنے کی قیادت علیمہ خان نے کی، ان کے ساتھ ڈاکٹر عظمی، نورین خان بھی اڈیالہ روڈ پر بیٹھ گئیں۔راولپنڈی پولیس نے کارکنوں کو محدود کرکے اڈیالہ روڈ پر ٹریفک کی روانی کو بحال رکھا ہے۔ دھرنے کے شرکا نے نعرے بازی کی اور بانی سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
اس دوران علیمہ خان، کارکن اور پولیس فیکٹری ناکے پر آمنے سامنے آگئے۔ علیمہ خان نے کارکنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل جانے کی کوشش کی۔ پولیس نے آگے جانے سے روک دیا اور پولیس اہل کار لائن بنا کر کھڑے ہوگئے۔پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر معین قریشی بھی اڈیالہ روڈ دھرنے میں پہنچ گئے۔اسی طرح بیرسٹر سلمان اکرم راجہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ روڈ پہنچ گئے، پولیس نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کو داہگل ناکے پر روک دیا۔ سلمان اکرم راجہ شدید غصے میں آگئے اور پولیس اہل کاروں سے تلخ کلامی کی۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے سات مہینوں سے ہمارے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے سب کے سامنے ہے توہین عدالت میں اسلام آباد ہائی کورٹ شامل ہے، ہم نے بیسیوں درخواستیں دی کسی ایک درخواست پر واضح حکم نہیں دیا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کسی ایک کو بلا کے سزا نہیں دی، پچھلے سات ماہ سے یہی ہورہا ہے عدالت کا حکم نہیں مانا جارہا۔انہوں ںے کہا کہ کس نے حکم دیا ہے روکنے کا یہ کوئی مذاق ہے؟ آپ لوگ اس وردی میں بدمعاشی کرنے آئے ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی سن لے کسی عدالت نے اپنے فیصلوں کی اتنی بے توقیری نہیں کرائی، اسلام آباد ہائی کورٹ شامل ہے اس توہین عدالت میں۔راولپنڈی سلمان اکرم راجہ غصے کی حالت میں داہگل ناکے سے واپس روانہ ہوگئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ یہ قانون سازی نہیں، آئین اور قانون پر حملہ ہے، اس وقت پاکستان میں ایک ڈھونگ رچایا جارہا ہے،سلمان اکرم راجا اندازہ ہے افغانستان کیا کررہا ہے، دہشتگردوں کو نہ روکا تو بندوبست کرینگے، وزیرداخلہ افغان پولیس پریڈ میں پاکستان مخالف ترانے، اسلام آباد کو آگ لگانے کی دھمکیاں قائم مقام چیئرمین نیب سہیل ناصر سے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی ڈی جی گریم بگر سی بی ای کے ساتھ ملاقات آج سوگ کا دن، 27ویں ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی، بیرسٹر گوہرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ سلمان اکرم راجہ اڈیالہ روڈ پر سے تلخ کلامی سے ملاقات
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔