ٹنڈو جام ، سرکاری اسکول کی تعمیر کا ٹھیکیدار فرار، کلاسززبوں حالی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت )ٹنڈوجام کے گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 2 کی تعمیر کے دوران ٹھیکیدار فرار 30کمرے زبوں حالی کا شکار طلباء کی تعلیم شدید متاثر محکمہ تعلیم کی عدم توجہ اساتذہ طلباء کا احتجاج تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 2 ٹنڈوجام جو کہ شہر کا سب سے بڑا اسکول ہے اور شہر میں قائم ہونے والا پہلا ہائی اسکول ہے اطلاعات کے مطابق اس کے کمرے کی خراب حالت دیکھ کر محکمہ تعلیم نے اس کے تمام کمروں کی ریپرنگ، کے لئے جنوری 2024 کو کام ٹھیکے پر دیا تھا اور اس پر کام شروع بھی ہو گیا تھا اور جس ٹھیکدار نے کام شروع کیا تھااسے جون 2025 کو مکمل کرنا تھا مگر محکمہ تعلیم کی عدم توجہ کی وجہ سے یہ کام مکمل نہیں ہو سکا اور ٹھیکدار کام ادھورا چھوڑ کر فرار ہو گیا ہے اہم زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ٹھیکدار کو مرمت کے کام کے لیے وقت پر پیسے نہیں ملے جس کی وجہ سے وہ کام چھوڑ کر چلا گیا اور اس کے کام چھوڑ کر جانے کہ بعد آج تک محکمہ تعلیم نے اس جانب کوکوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے طلباء کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے، اسکول کی بلڈنگ کی تعمیر مکمل ہونے کے خلاف اساتذہ طلباء اور سماجی رہنما وں نے احتجاج کیا اس موقع پر چیئرمین یونین کونسل 64 دانش صابر قائم خانی اور کونسلر عبدالحمیدشیخ نے بتایا کہ گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 2 ٹنڈوجام کا قدیمی اسکول ہے جس میں ٹنڈوجام اور اس کے گردونواح کے 2 ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیںاور اسکول کے 30 سے زائد کمرے زبوں حالی کا شکار ہے بلڈنگ خستہ حال ہوتی جارہی ہے اور اتنے بڑے اسکول میں سائنس حال نہیں ہے، ہیڈماسٹر و اساتذہ و کلرک کے کمرے زبوں حال ہے گزشتہ ایک سال قبل ٹھیکدار تھوڑا سا کام کرکے اور پھر کام چھوڑ کر چلا گیا اور اس کا پوارا سال گزر رہا لیکن محکمہ تعلیم نے کوئی نوٹس نہ لینے سے مراد ہے کہ ٹھیکدار کو وقت پر پیسے ادا نہیں کیے جارہے تھے جس کی وجہ سے اس نے کام چھوڑ دیا انھوں نے محکمہ تعلیم کی عدم توجہ کی وجہ سے طلباء کو تعلیم حاصل کرنے میں اساتذہ کو طلبہ کو تعلیم دینے میں مشکلات کا سامنا ہے انھوں نے حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد شاہ، صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ، سیکرٹری تعلیم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے کر اس کی تحقیقات کرائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ تعلیم ہائی اسکول کی وجہ سے کام چھوڑ چھوڑ کر اور اس
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین